CSS NEXUS
Urdu Answers

CSS 2019اسلامیاتQ.4

تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر کے تناظر میں اسلام میں خواتین کے حقوق بیان کیجیے۔

تحریر: Bisma Habib (PST) · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·

Read in English

Original CSS 2016–2022 Islamic studies paper

یہ CSS 2019 کے اسلامیات کے پرچے (Q.4) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں Bisma Habib (PST) نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔

خاکہ

  • تعارف
  • 1۔ تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر کے مطالبات کیا ہیں؟
  • 2۔ اسلام میں خواتین کے حقوق
  • ✓2.1 مساوی انسانی وقار
  • ✓2.2 مساوی روحانی و اخلاقی ذمہ داری
  • ✓2.3 تعلیم کا حق
  • ✓2.4 ملکیت اور معاشی خود مختاری کا حق
  • ✓2.5 وراثت کا حق
  • ✓2.6 نکاح اور رضامندی کا حق
  • ✓2.7 انصاف اور اظہارِ رائے کا حق
  • ✓2.8 خاندانی وقار اور تحفظ کا حق
  • 3۔ اسلام اور تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر میں ہم آہنگی
  • ✓3.1 خواتین کے معاشی حقوق
  • ✓3.2 تعلیمی حقوق
  • ✓3.3 سماجی اور ازدواجی حقوق
  • 4۔ اسلام اور تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر میں اختلاف
  • ✓4.1 حیا اور لباس
  • ✓4.2 صنف اور جنسیت
  • ✓4.3 سیاسی قیادت
  • 5۔ اختتامیہ

جواب

تعارف

وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ

”مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔“ — سورۃ التوبہ

اسلام نے خواتین کو وقار، روحانی مساوات اور تعلیم، نکاح، ملکیت اور سماجی زندگی میں قانونی حقوق دے کر ان کا مقام بدل دیا۔ اسی طرح تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر خواتین کے لیے مساوات، آزادی اور امتیازی سلوک سے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان میں سے بہت سے مطالبات اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں۔ تاہم حیا، جنسیت اور سیاسی قیادت کے معاملات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اسلام اور موجودہ تحریکِ نسواں کے کئی مقاصد مشترک ہیں، لیکن بعض سماجی اور اخلاقی اصولوں میں دونوں مختلف ہیں۔

1۔ تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر کے مطالبات کیا ہیں؟

تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر کے بنیادی مطالبات

  • مساوات
  • وقار
  • خود اختیاری
  • انتخاب کی آزادی
  • تعلیم
  • معاشی مواقع
  • سیاسی آواز
  • تشدد سے تحفظ

یہ تحریک ان روایتی صنفی کرداروں کو چیلنج کرتی ہے جو خواتین کو محدود کرتے ہیں، اور مطالبہ کرتی ہے کہ خواتین کو بولنے، انتخاب کرنے اور شریک ہونے کا حق ملے اور ان کے ساتھ باوقار سلوک کیا جائے۔

پاکستان میں عورت مارچ جیسی تحریکوں نے ہراسانی، گھریلو تشدد، غیر مساوی مواقع اور خواتین کی خود مختاری جیسے مسائل کو عوامی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔

2۔ اسلام میں خواتین کے حقوق

اسلام نے چودہ سو سال سے زیادہ پہلے خواتین کو جو حقوق دیے، وہ ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔

2.1 مساوی انسانی وقار

اسلام مرد اور عورت دونوں کی مشترکہ انسانی اصل اور مساوی انسانی وقار کو تسلیم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

”جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔“ — سورۃ النساء، آیت 1

2.2 مساوی روحانی و اخلاقی ذمہ داری

قرآن بار بار نیک مردوں اور نیک عورتوں کا ذکر ایک ساتھ کرتا ہے اور ان کے اعمال کے مطابق اجر کا وعدہ کرتا ہے۔ ارشاد ہے:

”جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔“ — النحل: 97

2.3 تعلیم کا حق

اسلام علم کے حصول کی ترغیب دیتا ہے۔ حضرت عائشہؓ حدیث کی بڑی عالمہ اور راویہ بنیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین دینی اور علمی میدان میں اپنا حصہ ڈال سکتی تھیں۔

2.4 ملکیت اور معاشی خود مختاری کا حق

اسلام نے عورت کی الگ قانونی اور معاشی حیثیت کو تسلیم کیا۔ عہدِ نبوی کی نمایاں مثال حضرت خدیجہؓ ہیں، جو کامیاب تاجرہ تھیں اور اپنی دولت کی خود مالک تھیں۔

2.5 وراثت کا حق

اسلام نے وراثت میں خواتین کا حصہ صراحت کے ساتھ مقرر کیا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

”مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔“ — قرآن 4:7

2.6 نکاح اور رضامندی کا حق

اسلام نکاح میں عورت کی رضامندی کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ سے نکاح کے بارے میں حضرت فاطمہؓ سے مشورہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیش کردہ رشتے میں بھی عورت کی رضامندی کا احترام کیا جاتا تھا۔

2.7 انصاف اور اظہارِ رائے کا حق

اسلامی تاریخ میں خواتین کے کھلے عام اپنی رائے کے اظہار کی مثالیں ملتی ہیں۔ ایک خاتون نے مہر کے معاملے پر حضرت عمرؓ کو ٹوکا، اور انہوں نے اس کی دلیل قبول کرتے ہوئے فرمایا:

”آج عمر غلطی پر ہے اور یہ خاتون درست ہے۔“

نوٹ: یہ روایت بہت مشہور ہے، لیکن محدثین نے اس کی سندوں کو ضعیف یا منقطع قرار دیا ہے۔

2.8 خاندانی وقار اور تحفظ کا حق

قرآن نکاح کو باہمی سکون اور تحفظ کا رشتہ قرار دیتا ہے:

”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے۔“ — قرآن 2:187

نبی کریم ﷺ نے بھی بیویوں کے ساتھ اچھے سلوک پر زور دیا:

”تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“

3۔ اسلام اور تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر میں ہم آہنگی

تحریکِ نسواں کے کئی موجودہ مطالبات ان حقوق سے ہم آہنگ ہیں جو اسلام پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے۔

3.1 خواتین کے معاشی حقوق

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

”جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ۔“ — قرآن 4:32

اس حق کی جھلک حضرت خدیجہؓ کی زندگی میں ملتی ہے، جو کامیاب تاجرہ تھیں۔ اسی طرح شرمین عبید چنائے جیسی موجودہ حقوقِ نسواں کی علمبردار خواتین نے پاکستان میں خواتین کی معاشی اور سماجی خود مختاری کو اجاگر کیا ہے۔

3.2 تعلیمی حقوق

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔“ — ابن ماجہ

اس اصول کی عملی مثال حضرت عائشہؓ ہیں، جو ممتاز عالمہ بنیں، جبکہ موجودہ تحریکِ نسواں میں ملالہ یوسف زئی نے عالمی سطح پر لڑکیوں کے حقِ تعلیم کی وکالت کی ہے۔

3.3 سماجی اور ازدواجی حقوق

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو۔“ — قرآن 4:19

نبی کریم ﷺ نے مزید فرمایا:

”تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“ — ترمذی

اسی جذبے کے تحت اسلامی حقوقِ نسواں کی اسکالر ڈاکٹر امینہ ودود مسلم خاندانی اور سماجی تعلقات میں صنفی انصاف اور زیادہ منصفانہ رویے کی وکالت کرتی ہیں۔

4۔ اسلام اور تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر میں اختلاف

ہم آہنگی کے ان پہلوؤں کے باوجود اسلام اور موجودہ تحریکِ نسواں کا فکری ڈھانچہ پوری طرح ایک نہیں ہے۔

4.1 حیا اور لباس

اسلام حیا اور باوقار لباس پر زور دیتا ہے۔ قرآن میں ہے:

”مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔“ — قرآن 24:31

اس کے برعکس عورت مارچ جیسی تحریکیں خواتین کی جسمانی خود مختاری اور وضع قطع اور لباس کے بارے میں ذاتی انتخاب کے حق پر زور دیتی ہیں۔

4.2 صنف اور جنسیت

اسلام ہم جنس تعلقات کو حرام قرار دیتا ہے۔ قرآن میں ہے:

”تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔“ — قرآن 7:81

اس کے برعکس LGBTQ+ کو شامل کرنے والی تحریکِ نسواں کی موجودہ تنظیمیں ہم جنس تعلقات اور ہم جنس شادی کی مساوات کی حمایت کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کی نیشنل آرگنائزیشن فار ویمن (NOW) LGBTQ+ حقوق اور ہم جنس شادی کی مساوات کی حامی ہے۔

4.3 سیاسی قیادت

روایتی اسلامی تعبیرات خواتین کے سربراہِ مملکت بننے پر پابندی لگاتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پا سکتی جس نے ایک عورت کو اپنا حکمران بنا لیا۔“ — صحیح بخاری، 4425

اس کے برعکس موجودہ تحریکِ نسواں سیاسی قیادت میں برابری کا مطالبہ کرتی ہے، جسے یو این ویمن خواتین کی نمائندگی کی اپنی مہمات کے ذریعے فروغ دیتا ہے۔

5۔ اختتامیہ

اسلام نے خواتین کو وقار، روحانی مساوات اور قانونی حقوق عطا کیے۔ موجودہ تحریکِ نسواں کے بہت سے مطالبات، جن میں تعلیم، معاشی خود مختاری اور امتیازی سلوک سے تحفظ شامل ہیں، اسلامی تعلیمات سے تائید پاتے ہیں۔ تاہم حیا، جنسیت اور سیاسی قیادت کے معاملات میں اختلافات برقرار ہیں۔ لہٰذا خواتین کے حقوق کا تحفظ انصاف، وقار اور مساوات کے اسلامی اصولوں کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے اور ساتھ ہی جدید معاشرے کے حقیقی مسائل کا حل بھی تلاش کیا جانا چاہیے۔

قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔

Corrections and discussion

Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.

Add your comment, correction or suggestion

Everything is checked by our team before it appears. Please keep it respectful and on topic.

Your rating (optional)

Answered this question differently?

Submit your own answer — approved answers are published with your name.

Submit your answer

Get new solved papers on WhatsApp

Follow channel

Tags

  • #Women's Rights
  • #Equality
  • #Waves of Feminism
  • #Feminist Theory
  • #CSS 2019 Solved Paper
  • #CSS 2019 Islamiat
  • #CSS Islamiat Solved Papers
  • #CSS Islamic Studies Solved Papers
  • #Islamiat Past Papers
  • #CSS Compulsory Subjects
  • #FPSC CSS Past Papers
  • #CSS Islamiat in Urdu
  • #Islamiat Solved Papers in Urdu
  • #csssolvedpapers
  • #csssolvedpapers2019
  • #CSS Islamic Studies Solved Paper 2019
  • #تحریکِ نسواں کی موجودہ لہر کے تناظر میں