CSS 2023اسلامیاتQ. 5
اجماع کی تعریف کیجیے اور اس کی مختلف اقسام بیان کیجیے۔ کیا اسلامی ریاست کی پارلیمنٹ کی قانون سازی کو ایک درست اجماع قرار دیا جا سکتا ہے؟
تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·
یہ CSS 2023 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 5) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
خاکہ
- 1۔ تعارف
- 2۔ اجماع کی تعریف اور حجیت
- 3۔ اجماع کی اقسام
- 4۔ کیا پارلیمانی قانون سازی درست اجماع ہو سکتی ہے؟
- ✓حق میں دلائل
- ✓مخالفت میں دلائل
- ✓ایک متوازن نقطۂ نظر
- 5۔ پاکستان کا تجربہ
- 6۔ مجوزہ لائحۂ عمل
- 7۔ اختتامیہ
جواب
تعارف
اجماع، یعنی علما کا اتفاق، قرآن و سنت کے بعد اسلامی قانون کا تیسرا ماخذ ہے۔ ماضی میں یہ عالمِ اسلام کے علما کے درمیان بتدریج تشکیل پاتا تھا۔ آج جدید مسلم ریاستوں میں منتخب پارلیمانیں پوری آبادی کے لیے قانون بناتی ہیں، اور اس سے ایک مشکل سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مقننہ کا فیصلہ اجماع شمار ہو سکتا ہے؟ علامہ اقبال نے اس کا ایک مشہور ترین جواب دیا، لیکن یہ سوال اب بھی زیرِ بحث ہے۔
اجماع کی تعریف اور حجیت
تعریف
لغوی طور پر اجماع کا مطلب پختہ ارادہ اور اتفاق ہے۔ اصطلاحی طور پر یہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد کسی ایک زمانے میں امتِ مسلمہ کے اہل مجتہدین کا کسی شرعی مسئلے پر اتفاق ہے۔
حجیت
علما درج ذیل جیسی آیات اور اس روایت سے استدلال کرتے ہیں: ”میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی“ (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اس کی سند پر تنقید کی گئی ہے، اگرچہ بہت سے علما اس کے مفہوم کو ثابت شدہ سمجھتے ہیں۔
وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ …
”مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو …“ (النساء 4:115)
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ …
”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو …“ (آلِ عمران 3:110)
شرائط
شرکا اہل ہوں، معاملہ شریعت سے متعلق ہو، ماخذ میں اس کی بنیاد موجود ہو، اور وہ کسی واضح نص کے خلاف نہ ہو۔
اجماع کی اقسام
اجماع کی اقسام
- صریح: واضح اتفاق
- سکوتی: خاموشی کے ذریعے
- صحابہ کا اجماع
- اہلِ مدینہ کا اجماع (امام مالک)
- نقل کے لحاظ سے متواتر یا آحاد
1۔ صریح اجماع۔ تمام مجتہدین کھل کر اپنی رائے بیان کریں۔ یہ سب سے مضبوط صورت ہے، جیسے قرآن کی جمع و تدوین پر صحابہ کا اتفاق۔
2۔ سکوتی اجماع۔ کچھ لوگ رائے دیں اور باقی علم ہونے کے باوجود خاموش رہیں۔ اس کی حجیت میں علما کا اختلاف ہے۔ بہت سے احناف اسے شرائط کے ساتھ قبول کرتے ہیں، جبکہ امام شافعیؒ کے بارے میں عام طور پر منقول ہے کہ انہوں نے اسے رد کیا۔
3۔ صحابہ کا اجماع
اکثر علما اسے سب سے زیادہ معتبر سمجھتے ہیں، کیونکہ صحابہ تعداد میں کم اور معروف تھے، اور نزولِ وحی کے قریب تھے۔
4۔ اہلِ مدینہ کا اجماع
امام مالکؒ نے اسے قبول کیا، کیونکہ اہلِ مدینہ کے عمل نے سنت کو محفوظ رکھا تھا۔ دوسرے علما اس بات سے متفق نہیں تھے کہ یہ اجماع ہے۔
5۔ نقل کے لحاظ سے تقسیم
جو اجماع تواتر سے معلوم ہو وہ اس اجماع سے زیادہ مضبوط ہے جو چند روایات (آحاد) سے معلوم ہو۔
کیا پارلیمانی قانون سازی درست اجماع ہو سکتی ہے؟
حق میں دلائل۔
1۔ اقبال کا استدلال
اقبال نے اپنی کتاب ”تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ“ (Reconstruction) کے چھٹے خطبے میں کہا کہ اجتہاد کا اختیار مختلف مکاتبِ فکر کے انفرادی نمائندوں سے ایک مسلم قانون ساز اسمبلی کو منتقل ہونا ”جدید دور میں اجماع کی واحد ممکنہ صورت“ ہے۔ ان کے مطابق اس سے معاملات کی سمجھ رکھنے والے عام لوگ بھی حصہ ڈال سکیں گے، جبکہ علما اس کے ایک اہم جزو کے طور پر مدد کر سکیں گے۔
2۔ اجتماعی نمائندگی
منتخب اسمبلی عوام کی نمائندگی کرتی ہے، جو اجتماعی معاملات میں مشاورت پر قرآن کے زور سے مطابقت رکھتی ہے۔
… وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ …
”اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں“ (الشوریٰ 42:38)
3۔ عملی اختیار
کلاسیکی اجماع کو معلوم کرنے یا نافذ کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں، جبکہ پارلیمنٹ کے پاس واضح طریقہ کار اور قانونی اختیار ہے۔ قوانین کو ریاست نافذ کرتی ہے، اور حکمران اختلاف ختم کرنے کے لیے ایک فقہی رائے اختیار کر سکتا ہے: یہ اصول کہ ”حاکم کا فیصلہ اختلاف کو ختم کر دیتا ہے“ (حکم الحاکم یرفع الخلاف)۔
4۔ پیچیدہ مسائل
بینکاری، ٹیکس اور حکمرانی کے لیے صرف فقہا نہیں بلکہ بہت سے شعبوں کے ماہرین کی رائے درکار ہے۔
مخالفت میں دلائل۔
1۔ اہلیت
کلاسیکی اجماع کے لیے مجتہدین ضروری ہیں۔ زیادہ تر ارکانِ پارلیمنٹ قرآن، سنت یا اصولِ فقہ کا علم نہیں رکھتے، اور وہ دوسری وجوہات کی بنا پر منتخب ہوتے ہیں۔
… وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ مِنْهُمْ …
”اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں“ (النساء 4:83)
2۔ اکثریت اجماع نہیں
اجماع کے لیے اتفاق، یا کم از کم تقریباً مکمل اتفاق، ضروری ہے۔ پارلیمانی قانون معمولی اکثریت سے، بہت سے لوگوں کی مخالفت کے باوجود منظور ہو سکتا ہے، اور اگلی پارلیمنٹ اسے منسوخ کر سکتی ہے۔
3۔ مقامی، عالمگیر نہیں
روایتی طور پر اجماع سے مراد پوری امت ہے، جبکہ پارلیمنٹ ایک قوم کی نمائندگی کرتی ہے۔ لاہور یا قاہرہ میں منظور ہونے والے قوانین تمام مسلمانوں کی طرف سے نہیں بول سکتے۔
4۔ سیاسی مفادات
قانون سازی میں جماعتی نظم، بیرونی دباؤ یا ذاتی مفاد کا عکس ہو سکتا ہے، جو حق کی علمی تلاش سے مختلف ہیں۔ بہت سے مسلم ممالک میں انتخابات بھی متنازع ہوتے ہیں۔
5۔ حدود
پارلیمنٹ متفقہ طور پر بھی کسی واضح نص کے خلاف جائز طور پر فیصلہ نہیں کر سکتی۔
ایک متوازن نقطۂ نظر۔
سختی سے دیکھا جائے تو پارلیمانی قانون کلاسیکی معنوں میں اجماع نہیں، کیونکہ اس میں مطلوبہ شرکا، عالمگیریت اور دوام موجود نہیں۔ اسے اجتماعی اجتہاد (اجتہادِ جماعی) یا اولی الامر کا جائز فیصلہ قرار دینا زیادہ مناسب ہے۔ مسلمانوں کو ایسے قانون کی اس کی حدود کے اندر اطاعت کرنی چاہیے، جب تک وہ گناہ کا حکم نہ دے۔ اقبال کی تجویز بھی یہ دعویٰ نہیں تھی کہ ہر اکثریتی ووٹ خود بخود امت کو پابند کر دیتا ہے؛ انہوں نے غلطی کے خطرے کو تسلیم کیا اور علما کے لیے نگرانی کا کردار تجویز کیا، اگرچہ یہ بھی مانا کہ یہ ایک عارضی انتظام ہو سکتا ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ …
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، … اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں“ (النساء 4:59)
چنانچہ جو قانون عوامی نمائندوں اور علما کے وسیع اتفاق سے منظور ہو اور وقت کے ساتھ وسیع تر معاشرہ اسے قبول کر لے، وہ اس معاشرے کے لیے اجماع کی روح کے قریب ہو سکتا ہے، اگرچہ اس میں اجماع کی پوری قوت نہ ہو۔
پاکستان کا تجربہ
آئین
قراردادِ مقاصد، جو اب آرٹیکل 2-اے ہے، کہتی ہے کہ اللہ کی حاکمیت عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کی جائے گی۔ آرٹیکل 227 قرآن و سنت کے منافی قوانین کی ممانعت کرتا ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل
(آرٹیکل 228 تا 231) پارلیمنٹ کو مشورہ دیتی ہے، تاہم اس کی سفارشات لازمی نہیں، اور ان میں سے بہت سی پر عمل نہیں ہوا۔
وفاقی شرعی عدالت
(آرٹیکل 203-ڈی) اسلام کے منافی قرار پانے والے قوانین کو کالعدم کر سکتی ہے، جیسا کہ 2022 کے سود سے متعلق فیصلے میں ہوا۔
مثالیں
1974 کی دوسری آئینی ترمیم، جو طویل بحث کے بعد متفقہ طور پر منظور ہوئی، کو بعض لوگوں نے اجماع سے قریب فیصلے کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کے برعکس 1961 کے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1979 کے حدود آرڈیننس اور 2006 کے تحفظِ نسواں ایکٹ پر شدید اختلافات ہوئے، جو ان معاملات میں اتفاقِ رائے حاصل کرنے کی مشکل کو ظاہر کرتے ہیں۔
مجوزہ لائحۂ عمل
1۔ اہل افراد کی رائے
پارلیمانی کمیٹیوں کو علما، وکلا اور ماہرینِ معاشیات کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
2۔ وسیع تر عوامی مشاورت
دینی معاملات سے متعلق قوانین پر منظوری سے پہلے عوامی بحث ہونی چاہیے۔
3۔ مضبوط اسلامی نظریاتی ادارہ
کونسل کی رکنیت مختلف آرا اور ماہرین کی نمائندہ ہونی چاہیے، اور اس کی رپورٹوں پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔
4۔ قانون سازوں کی تعلیم
بریفنگ اور تحقیقی معاونت ان کے کردار کو زیادہ باخبر بنا سکتی ہے۔
5۔ بین الاقوامی اجتماعی اجتہاد
او آئی سی کی بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی جیسے ادارے وسیع تر مسلم نقطۂ نظر فراہم کر سکتے ہیں۔
6۔ عاجزی
ہر قانون کو ایک انسانی تعبیر سمجھا جانا چاہیے، جس پر حالات بدلنے کے ساتھ نظرِ ثانی ہو سکتی ہے۔
اختتامیہ
اجماع کسی شرعی معاملے پر اہل علما کا اتفاق ہے، اور یہ صریح یا سکوتی ہو سکتا ہے، جبکہ اس کی کئی اور تقسیمیں بھی ہیں۔ پارلیمانی قانون سازی کو سخت کلاسیکی معنوں میں اجماع قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ تمام قانون ساز مجتہد نہیں ہوتے، اکثریت اتفاق نہیں ہوتی اور قومی قوانین عالمگیر نہیں ہوتے۔ پھر بھی اقبال درست تھے کہ جدید مسلم معاشرے کو اجتماعی غور و فکر کے لیے ایک نمائندہ ادارہ درکار ہے۔ علما کی رہنمائی میں اور قرآن و سنت کی حدود کے اندر کام کرنے والی پارلیمنٹ اجتماعی اجتہاد کی ایک جائز صورت فراہم کر سکتی ہے، جو اپنی ریاست میں قانون کے طور پر واجب العمل اور اصلاح کے لیے کھلی ہو۔
The writer can be reached at ma6749429@gmail.com
قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔
Answered this question differently?
Submit your own answer — approved answers are published with your name.
Get new solved papers on WhatsApp
Follow the CSS Nexus channel to hear first when new answers are published.

Corrections and discussion
Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.