CSS 2018اسلامیاتQ. 3
تزکیۂ نفس اور احسان کیا ہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی وضاحت کیجیے، نیز ان کے انفرادی اور اجتماعی اثرات بیان کیجیے۔
تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·
یہ CSS 2018 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 3) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
خاکہ
- 1۔ تعارف
- 2۔ تزکیۂ نفس کا مفہوم
- 3۔ احسان کا مفہوم
- ✓اللہ کے ساتھ اور مخلوق کے ساتھ احسان
- 4۔ دونوں کا باہمی تعلق
- 5۔ قرآن میں تزکیہ اور احسان
- 6۔ سنت میں تزکیہ اور احسان
- 7۔ انفرادی اثرات
- 8۔ اجتماعی اثرات
- 9۔ اختتامیہ
جواب
تعارف
اسلام انسان کے ظاہری اعمال اور دل کی باطنی حالت دونوں کو مخاطب کرتا ہے۔ فقہ زیادہ تر ظاہر سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ تزکیہ اور احسان کا تعلق باطن سے ہے۔ یہ دونوں مل کر رسمی دینداری کو زندہ کردار میں بدل دیتے ہیں۔ انسان نماز پڑھ سکتا ہے، روزہ رکھ سکتا ہے اور صدقہ دے سکتا ہے، لیکن قرآن و سنت اس سے آگے پوچھتے ہیں: کیا یہ اخلاص اور حسنِ عمل کے ساتھ کیا گیا، اور کیا اس نے کرنے والے کو بدلا؟
تزکیۂ نفس کا مفہوم
تزکیہ کا مطلب ہے پاک کرنا اور بڑھانا دونوں۔ اس لیے تزکیۂ نفس دو چیزوں پر مشتمل ہے: تکبر، حسد، لالچ اور منافقت جیسی روحانی بیماریوں کو دور کرنا، اور اخلاص، صبر، شکر اور عاجزی جیسی خوبیاں پیدا کرنا۔
احسان کا مفہوم
احسان حُسن سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب خوبصورتی یا اچھائی ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی کام کو بہترین ممکن طریقے سے کرنا اور فرض سے آگے بڑھ جانا۔
اللہ کے ساتھ احسان
نبی کریم ﷺ نے مشہور حدیثِ جبریل میں اس کی تعریف یوں فرمائی: ”یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو؛ اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے“ (بخاری، مسلم)۔
مخلوق کے ساتھ احسان
اس کا مطلب ہے لوگوں کے ساتھ بہترین اور مہربان سلوک کرنا، واجب سے زیادہ دینا اور حق سے کم لینے پر راضی ہونا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ہر چیز میں احسان فرض کیا ہے“ (مسلم)، اور اسی حدیث میں آپ ﷺ نے اسے جانور ذبح کرنے تک وسعت دی، کہ اسے بلا ضرورت تکلیف دیے بغیر ذبح کیا جائے۔
دونوں کا باہمی تعلق
تزکیہ اور احسان
- تزکیہ: پاک ہونے اور بڑھنے کا عمل
- احسان: حاصل ہونے والا کمال کا مقام
- دونوں مل کر: مخلصانہ عبادت اور خوبصورت طرزِ عمل
تزکیہ راستہ ہے، اور احسان اس راستے کا بلند ترین مقام۔ حدیثِ جبریل دین کے تین درجے بیان کرتی ہے: اسلام (ظاہری عمل)، ایمان (باطنی عقیدہ) اور احسان (کمال)۔ نفس جتنا پاک ہوتا ہے، انسان احسان کی طرف اتنا ہی بڑھتا ہے۔
قرآن میں تزکیہ اور احسان
پاکیزگی کامیابی کی کنجی۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ
”فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی“ (الاعلیٰ 87:14)
نبی کریم ﷺ کا مشن۔
لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ …
”درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے“ (آلِ عمران 3:164)
احسان بطور الٰہی حکم۔
إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَٰنِ …
”اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے“ (النحل 16:90)
اس پر عمل کرنے والوں سے اللہ کی محبت
یہ آیت یہ بھی دکھاتی ہے کہ روزمرہ زندگی میں احسان کیسا نظر آتا ہے: ہر حال میں خرچ کرنا، غصے کو پی جانا اور لوگوں کو معاف کرنا۔
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلْكَٰظِمِينَ ٱلْغَيْظَ وَٱلْعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ
”جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں“ (آلِ عمران 3:134)
برائی کو بھلائی سے دفع کرنا
قرآن اسے ایسا طریقہ قرار دیتا ہے جو دشمن کو دوست بنا سکتا ہے۔
وَلَا تَسْتَوِى ٱلْحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُ ۚ ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُۥ عَدَٰوَةٌۭ كَأَنَّهُۥ وَلِىٌّ حَمِيمٌۭ
”نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے“ (حم السجدہ 41:34)
سنت میں تزکیہ اور احسان
آپ ﷺ کا اپنا نمونہ
نبی کریم ﷺ رات کو اتنی نماز پڑھتے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔ جب پوچھا گیا کہ ایسا کیوں، جبکہ آپ ﷺ کو معاف کیا جا چکا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ (بخاری، مسلم)۔ یہ عبادت میں احسان ہے۔
دوسروں کے ساتھ برتاؤ
آپ ﷺ نے اپنے ستانے والوں کو معاف کیا۔ حضرت انسؓ نے دس سال آپ ﷺ کی خدمت کی اور فرمایا کہ آپ ﷺ نے کبھی ایک بار بھی انہیں ’اُف‘ تک نہیں کہا (بخاری، مسلم)۔
دل سے متعلق تعلیمات
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے“ (مسلم)۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے (بخاری، مسلم)۔
روزمرہ کام میں احتیاط
آپ ﷺ نے سکھایا کہ اللہ پسند کرتا ہے کہ تم میں سے کوئی کام کرے تو اسے اچھی طرح کرے (بیہقی، شعب الایمان)، جو احسان کو کام کی جگہ تک لے آتا ہے۔
صحابہ کی تربیت
صحبت، عبادت اور عملی نمونے کے ذریعے آپ ﷺ نے ایک سخت معاشرے کو بدل دیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا، اور حضرت عمرؓ رات کو اپنی پیٹھ پر غریبوں کے لیے کھانا اٹھا کر لے جاتے تھے۔ یہ روایت امام غزالیؒ، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور شاہ ولی اللہؒ میں، اور برصغیر کی صوفی روایت کی بہترین صورت میں جاری رہی۔
انفرادی اثرات
اخلاص اور ذہنی سکون
دکھاوے اور تعریف کی طلب سے آزاد شخص زیادہ مطمئن ہوتا ہے، اور اس فکر سے آزاد ہوتا ہے کہ دوسرے کیا سوچتے ہیں۔
… أَلَا بِذِكْرِ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ
”خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے“ (الرعد 13:28)
ضبطِ نفس
تزکیہ انسان کو غصے، شہوت اور لالچ کے خلاف مضبوط کرتا ہے، اور ترغیب کے مقابلے میں اخلاقی طاقت دیتا ہے۔
ہر وقت اللہ کا شعور
جو یقین رکھتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے وہ تنہائی میں بھی ویسا ہی برتاؤ کرتا ہے جیسا لوگوں کے سامنے۔
کام کا معیار
احسان والا شخص کام اچھی طرح کرتا ہے، خواہ اس کی جانچ ہو یا نہ ہو۔
ثابت قدمی
صبر اور شکر مشکل میں مدد دیتے ہیں، اور اللہ پر توکل ناکامی کے خوف کو دور کرتا ہے۔
بلند تر مقصد
زندگی کو اللہ کو راضی کرنے اور دوسروں کی خدمت کا موقع سمجھا جاتا ہے۔
اجتماعی اثرات
اجتماعی اثرات
- اعتماد اور دیانت
- بدعنوانی میں کمی
- خاندانی ہم آہنگی
- سماجی بہبود
- امن اور عفو
- اداروں میں کمال
اعتماد اور دیانت
بازار اور دفاتر اس وقت بہتر کام کرتے ہیں جب لوگ مجبور کیے بغیر اپنے وعدے پورے کریں۔
کم بدعنوانی
احسان والا سرکاری ملازم آڈٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی رشوت نہیں لے گا۔ ایسے لوگ عہدوں پر ہوں تو پاکستان کے انسدادِ بدعنوانی کے قوانین کہیں زیادہ مؤثر ہوں۔
خاندانی ہم آہنگی
والدین، شریکِ حیات اور بچوں کے ساتھ اچھا سلوک معاشرے کو مستحکم کرتا ہے۔ قرآن اللہ کی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیتا ہے (بنی اسرائیل 17:23)۔
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا …
”تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو“ (بنی اسرائیل 17:23)
سماجی بہبود
احسان والے لوگ کسی بدلے کی خواہش کے بغیر غریبوں پر خرچ کرتے ہیں۔ اسپتال، اسکول اور فلاحی ادارے بنانے والے سخی شہری، جیسا کہ پاکستان میں مرحوم عبدالستار ایدھی کا کام، اس اصول کو عملی صورت میں دکھاتے ہیں۔
امن اور عفو
جو معاشرہ انتقام کے بجائے معافی کو ترجیح دے وہ دشمنیوں کے سلسلے ختم کر سکتا ہے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی عام معافی آج بھی سب سے بڑی مثال ہے۔
اداروں میں کمال
احسان اسکولوں، اسپتالوں، عدالتوں اور کاروباروں میں معیار کی ثقافت پیدا کرتا ہے، جو قومی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
ایک تنبیہ
تزکیہ کو معاشرے سے کنارہ کشی نہیں بننا چاہیے اور نہ اسے رسومات اور روحانی دعووں تک محدود ہونا چاہیے۔ نہ ہی اسے ان لوگوں کے ہاتھوں غلط استعمال ہونا چاہیے جو روحانیت کے نام پر لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ اس کا حقیقی امتحان دوسروں کے ساتھ دیانت دارانہ طرزِ عمل ہے۔
اختتامیہ
تزکیۂ نفس نفس کی پاکیزگی اور نشوونما ہے، جبکہ احسان عبادت اور طرزِ عمل کا وہ کمال ہے جو اس سے پیدا ہوتا ہے۔ قرآن انہیں کامیابی کی کنجی قرار دیتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنا مشن اور طرزِ زندگی بنایا۔ فرد کے لیے یہ اخلاص، ضبطِ نفس اور سکون لاتے ہیں۔ معاشرے کے لیے یہ اعتماد، دیانت، خاندانی ہم آہنگی اور بہبود لاتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی اصلاح کے لیے اچھے قوانین اور اچھے لوگ دونوں درکار ہیں، اور تزکیہ اور احسان ہی ایسے لوگ تیار کرتے ہیں۔
The writer can be reached at ma6749429@gmail.com
قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔
Answered this question differently?
Submit your own answer — approved answers are published with your name.
Get new solved papers on WhatsApp
Follow the CSS Nexus channel to hear first when new answers are published.

Corrections and discussion
Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.