CSS NEXUS
CSS Solved Islamic Studies

CSS 2019اسلامیاتQ. 3

میدانِ جنگ میں بطور سپہ سالار نبی کریم ﷺ کے کردار کا ایک عمومی جائزہ پیش کیجیے۔

تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·

Read in English

Original CSS 2016–2022 Islamic studies paper

یہ CSS 2019 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 3) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔

خاکہ

  • 1۔ تعارف
  • 2۔ آپ ﷺ کی جنگوں کا پس منظر
  • 3۔ بطور سپہ سالار آپ ﷺ کا کردار
  • ✓شجاعت اور ثابت قدمی
  • ✓مکمل تیاری کے ساتھ اللہ پر توکل
  • ✓مشاورت اور عاجزی
  • ✓مشقت میں شرکت
  • ✓نظم و ضبط اور ساتھیوں کی فکر
  • ✓جنگ میں رحمت اور اخلاقیات
  • ✓وفاداری اور ضبط
  • 4۔ اہم غزوات میں جائزہ
  • 5۔ مجموعی جائزہ
  • 6۔ اختتامیہ

جواب

تعارف

تاریخ بہت سے شاندار جرنیلوں اور بہت سے مقدس معلموں کو جانتی ہے، لیکن بہت کم لوگوں نے دونوں کردار یکجا کیے۔ نبی کریم ﷺ نے 2 ہجری سے 9 ہجری کے درمیان متعدد مہمات کی خود قیادت فرمائی، جنہیں غزوات کہا جاتا ہے۔ میدانِ جنگ میں آپ ﷺ نے صرف عسکری مہارت ہی نہیں بلکہ ایسا اخلاقی کردار بھی دکھایا جس نے عرب میں جنگ کے تصور کو بدل دیا۔ یہ جواب آپ ﷺ کی مہمات کی مثالوں کے ساتھ بطور سپہ سالار آپ ﷺ کے کردار پر مرکوز ہے۔

آپ ﷺ کی جنگوں کا پس منظر

آپ ﷺ نے جنگ کی خواہش نہیں کی۔ مکہ میں تیرہ برس تک آپ ﷺ نے ظلم و ستم سہا، اور لڑائی کی اجازت ہجرت کے بعد اس وقت ملی جب مدینہ خطرے میں آ گیا۔

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَٰتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۟ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ

”اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے“ (الحج 22:39)

بطور سپہ سالار آپ ﷺ کا کردار

بطور سپہ سالار نبی کریم ﷺ کا کردار

  • شجاعت
  • تیاری کے ساتھ اللہ پر توکل
  • مشاورت
  • مشقت میں شرکت
  • نظم و ضبط
  • رحمت
  • وفاداری

1۔ شجاعت اور ثابت قدمی

حضرت علیؓ نے، جو خود ایک نامور جنگجو تھے، فرمایا کہ بدر میں جب لڑائی سب سے زیادہ شدید ہوئی تو صحابہ نبی کریم ﷺ کے قریب پناہ لیتے، جو دشمن کے سب سے زیادہ قریب تھے (مسند احمد)۔ جب مدینہ میں رات کو خطرے کی آواز اٹھی تو دوسروں کے پہنچنے سے پہلے آپ ﷺ اکیلے گھوڑے پر سوار ہو کر جائزہ لے چکے تھے، اور واپس آ کر انہیں تسلی دی (بخاری، مسلم)۔

2۔ مکمل تیاری کے ساتھ اللہ پر توکل

بدر سے پہلے آپ ﷺ نے صفیں ترتیب دیں اور پھر رات گڑگڑا کر دعا میں گزاری۔ آپ ﷺ نے زرہ پہنی اور دستیاب وسائل استعمال کیے۔ ایمان نے منصوبہ بندی کی جگہ نہیں لی، بلکہ اسے مکمل کیا۔

وَأَعِدُّوا۟ لَهُم مَّا ٱسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍۢ وَمِن رِّبَاطِ ٱلْخَيْلِ …

”اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو“ (الانفال 8:60)

3۔ مشاورت اور عاجزی

کم تر کردار کا سپہ سالار مشاورت کو کمزوری کی علامت سمجھ سکتا تھا۔ آپ ﷺ نے بدر، احد اور خندق میں صحابہ سے مشورہ کیا، پڑاؤ کے بارے میں حضرت حبابؓ کی رائے اور خندق کے بارے میں حضرت سلمانؓ کی تجویز قبول کی۔ جب احد میں آپ ﷺ کے پیروکاروں سے کوتاہی ہوئی تب بھی قرآن نے آپ ﷺ کی نرمی کی تعریف کی۔

فَبِمَا رَحْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلْقَلْبِ …

”یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے“ (آلِ عمران 3:159)

4۔ مشقت میں شرکت

آپ ﷺ اپنے ساتھیوں سے الگ نہیں رہتے تھے۔ بدر کی طرف سفر میں ہر اونٹ پر تین آدمی باری باری سوار ہوتے، اور جب آپ ﷺ کو پیشکش کی گئی کہ ساتھی پیدل چلیں اور آپ ﷺ سوار رہیں تو آپ ﷺ نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نہ وہ مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں اور نہ میں اجر کا ان سے کم محتاج ہوں۔ خندق میں آپ ﷺ نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ کر دوسروں کے ساتھ کھدائی کی، اور مٹی اٹھاتے رہے یہاں تک کہ گرد سے اٹ گئے (بخاری)۔

5۔ نظم و ضبط اور ساتھیوں کی فکر

بدر میں آپ ﷺ نے خود صفیں سیدھی کیں۔ احد میں تیر اندازوں کو واضح احکام دیے، اور ان کی ناکامی کے بعد انہیں سزا دینے کے بجائے سبق سکھایا۔ آپ ﷺ زخمیوں کی عیادت کرتے اور شہدا کے خاندانوں کا خیال رکھتے۔ آپ ﷺ کا لشکر خوف سے نہیں بلکہ محبت سے آپ ﷺ کی پیروی کرتا تھا۔

6۔ جنگ میں رحمت اور اخلاقیات

آپ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا (بخاری، مسلم)۔ جب آپ ﷺ لشکر روانہ فرماتے تو ہدایت کرتے کہ خیانت نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا (مسلم)۔ جب ایک صحابی نے کلمۂ شہادت پڑھنے والے شخص کو قتل کر دیا تو آپ ﷺ نے انہیں سخت تنبیہ فرمائی (بخاری، مسلم)۔ جب حنین کے بعد بنو ہوازن کے قیدی واپس کیے گئے تو آپ ﷺ نے اپنا حصہ چھوڑ کر عملی مثال قائم کی۔

وَقَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

”اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ (البقرہ 2:190)

7۔ معاہدوں کی پابندی

بدر سے پہلے دو صحابی آپ ﷺ کے پاس آئے جنہیں قریش نے اس وعدے پر چھوڑا تھا کہ وہ لڑائی میں شریک نہیں ہوں گے۔ اگرچہ ہر آدمی کی ضرورت تھی، آپ ﷺ نے انہیں اپنا وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا (مسلم)۔ حدیبیہ میں آپ ﷺ نے حضرت ابو جندلؓ کو واپس کر دیا، کیونکہ معاہدہ طے ہو چکا تھا۔

8۔ فتح میں ضبط

بدر کے بعد قیدیوں سے ایسا اچھا سلوک کیا گیا کہ بعض نے کہا کہ ان کے نگہبان انہیں روٹی کھلاتے اور خود کھجوریں کھاتے تھے۔ بعض کو مسلمان بچوں کو پڑھانے کے بدلے آزاد کر دیا گیا۔ فتحِ مکہ کے بعد آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت کے ذمہ داروں کو بھی معاف کر دیا۔

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

”آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے“ (یوسف 12:92)

اہم غزوات میں جائزہ

بدر (2 ہجری)

چند سو افراد نے، جو تقریباً تین گنا کم تھے، فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ آپ ﷺ کی قیادت نے انہیں اعتماد دیا، اور آپ ﷺ کی دعا نے اللہ پر آپ ﷺ کے مکمل انحصار کو ظاہر کیا۔ پھر آپ ﷺ نے بعض لوگوں کے سخت مشورے کے برعکس قیدیوں کی جان بخشی کی۔

احد (3 ہجری)

یہ آپ ﷺ کے کردار کا حقیقی امتحان ہے۔ جب تیر اندازوں کے اپنی جگہ چھوڑنے کے بعد مسلمانوں کی صفیں ٹوٹ گئیں تو آپ ﷺ میدان میں ڈٹے رہے، چہرۂ مبارک زخمی ہوا، دانت مبارک شہید ہوا، پھر بھی آپ ﷺ نے حملہ آوروں کو بددعا نہیں دی۔ آپ ﷺ نے ایک پچھلے نبی کا ذکر فرمایا جو اپنی قوم کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور دعا کی: ”اے اللہ، میری قوم کو معاف کر دے، کیونکہ وہ نہیں جانتے“ (بخاری، مسلم)، اور مفسرین ان الفاظ میں آپ ﷺ کے اپنے طرزِ عمل کی جھلک دیکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو دوبارہ منظم کیا، اور اگلے دن حوصلے بحال کرنے کے لیے حمراء الاسد تک دشمن کا تعاقب کیا۔

خندق (5 ہجری)

جب شہر محاصرے میں تھا اور خوراک کم تھی، آپ ﷺ نے حوصلے بلند رکھے، اور کھدائی کے دوران چٹان پر ضربیں لگا کر اسے توڑتے ہوئے آئندہ فتوحات کی بشارت بھی دی۔

حنین (8 ہجری)

جب ایک تنگ وادی میں اچانک حملے سے مسلمانوں کی صفیں ٹوٹ گئیں تو آپ ﷺ اپنے خچر پر آگے بڑھے اور اعلان فرمایا: ”میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں؛ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں“ (بخاری، مسلم)۔ آپ ﷺ کی جرأت نے لشکر کو دوبارہ جمع کیا اور شکست کو فتح میں بدل دیا۔

تبوک (9 ہجری)

آپ ﷺ تقریباً تیس ہزار افراد کو لے کر شدید گرمی میں ایک طویل سفر پر روانہ ہوئے۔ کوئی جنگ نہیں ہوئی، لیکن آپ ﷺ نے اس موقع سے مقامی قبائل کے ساتھ معاہدے کیے، جو ظاہر کرتا ہے کہ جہاں ممکن ہو آپ ﷺ امن کو ترجیح دیتے تھے۔

مجموعی جائزہ

آپ ﷺ نے بہت کم مواقع پر ذاتی طور پر لڑائی میں حصہ لیا، اور روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے صرف ایک شخص، احد میں ابی بن خلف، کو قتل کیا۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ جیسے محققین نے ”عہدِ نبوی کے میدانِ جنگ“ میں عسکری نقطۂ نظر سے آپ ﷺ کی مہمات کا تجزیہ کیا ہے۔

آپ ﷺ کا اصل امتیاز اس میں ہے جو آپ ﷺ کی جنگوں نے حاصل کیا: نہ ختم ہونے والے خونی انتقام کا خاتمہ، اور نسبتاً کم انسانی جانوں کی قیمت پر پورے عرب میں ایک مستحکم معاشرہ۔ مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب ”دی ہنڈرڈ“ میں آپ ﷺ کو تاریخ کی سب سے زیادہ اثر انگیز شخصیت قرار دیا، کیونکہ آپ ﷺ نے مذہبی اور دنیاوی دونوں اثرات کو یکجا کیا۔ بطور سپہ سالار جو بات نمایاں ہے وہ یہ کہ آپ ﷺ کا کردار نہیں بدلا، خواہ احد کی شکست ہو یا مکہ کی فتح۔

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍۢ

”اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو“ (القلم 68:4)

آج کے لیے اسباق

آپ ﷺ کی مثال جدید افواج کو سکھاتی ہے کہ حوصلہ رہنما کے نمونے پر قائم ہوتا ہے، مشاورت فیصلوں کو بہتر بناتی ہے، اور شہریوں کا تحفظ عزت کا معاملہ ہے۔ یہ آپ ﷺ کے نام پر شہریوں کو قتل کرنے والے دہشت گردوں کی براہِ راست تردید بھی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج، جن کے نصب العین میں ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ شامل ہیں، بجا طور پر اس مثال سے، اس کی سخت اخلاقی حدود سمیت، رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔

اختتامیہ

بطور سپہ سالار نبی کریم ﷺ نے جرأت کو عاجزی کے ساتھ، ایمان کو منصوبہ بندی کے ساتھ، سختی کو رحمت کے ساتھ، اور مہارت کو دیانت کے ساتھ یکجا کیا۔ آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کی مشقت میں شرکت کی، دوسروں کے بھاگنے پر ثابت قدم رہے اور سزا کی طاقت رکھتے ہوئے معاف کیا۔ میدانِ جنگ میں آپ ﷺ کے کردار کا جائزہ لیں تو ہمیں شان و شوکت کا طالب کوئی فاتح نہیں بلکہ رحمۃ للعالمین نظر آتے ہیں، جنہوں نے صرف ضرورت کے وقت تلوار اٹھائی اور امن کے پہلے موقع پر اسے رکھ دیا۔

The writer can be reached at ma6749429@gmail.com

قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔

Corrections and discussion

Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.

Add your comment, correction or suggestion

Everything is checked by our team before it appears. Please keep it respectful and on topic.

Your rating (optional)

Answered this question differently?

Submit your own answer — approved answers are published with your name.

Submit your answer

Get new solved papers on WhatsApp

Follow the CSS Nexus channel to hear first when new answers are published.

Follow our WhatsApp channel

Tags

  • #Seerah
  • #Prophet as Military Commander
  • #Ghazwat-e-Nabawi
  • #Battle of Badr
  • #Battle of Uhud
  • #Battle of Hunayn
  • #CSS Islamiat 2019
  • #CSS Islamic Studies 2019
  • #Solved Islamiat 2019
  • #CSS 2019 Solved Paper
  • #CSS 2019 Islamiat
  • #CSS Islamiat Solved Papers
  • #CSS Islamic Studies Solved Papers
  • #Islamiat Past Papers
  • #CSS Compulsory Subjects
  • #FPSC CSS Past Papers
  • #CSS Islamiat in Urdu
  • #Islamiat Solved Papers in Urdu
  • #csssolvedpapers
  • #csssolvedpapers2019
  • #CSS Islamic Studies Solved Paper 2019
  • #میدانِ جنگ میں بطور سپہ سالار نبی کریم