CSS 2021اسلامیاتQ. 7
اسلام کی اشاعت میں تصوف کی اہمیت کا جائزہ لیجیے۔ کیا تصوف کے ذریعے موجودہ انحراف کی اصلاح ممکن ہے؟
تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·
یہ CSS 2021 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 7) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
خاکہ
- 1۔ تعارف
- 2۔ تصوف کا مفہوم اور بنیاد
- 3۔ اسلام کی اشاعت میں تصوف کی اہمیت
- ✓جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ
- ✓صوفیہ کے طریقے
- 4۔ موجودہ انحراف کیا ہے؟
- 5۔ کیا تصوف اس کی اصلاح کر سکتا ہے؟
- ✓یہ کیسے مدد کر سکتا ہے
- ✓اس کی حدود اور غلط استعمال
- 6۔ حقیقی اصلاح کی شرائط
- 7۔ اختتامیہ
جواب
تعارف
تصوف اسلام کا باطنی پہلو ہے، جس کا تعلق دل کی پاکیزگی اور اللہ سے قرب حاصل کرنے سے ہے۔ صوفیہ نے بہت سے خطوں، خاص طور پر برصغیر، میں اسلام پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ مادہ پرستی، اخلاقی زوال اور انتہا پسندی کے اس دور میں بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ روایت کوئی علاج پیش کر سکتی ہے۔ اس کا جواب ایک مشروط ہاں ہے: حقیقی تصوف بہت مدد کر سکتا ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب وہ غلط استعمال سے پاک ہو اور انصاف اور مضبوط اداروں کے ساتھ جڑا ہو۔
تصوف کا مفہوم اور بنیاد
اس لفظ کی اصل پر اختلاف ہے۔ عام طور پر اسے صوف (اون) سے جوڑا جاتا ہے، جو ابتدائی زاہد پہنتے تھے، اور بعض اوقات صفا (پاکیزگی) سے۔ اس کا مقصد وہ ہے جسے قرآن تزکیہ اور حدیثِ جبریل احسان کہتی ہے: اللہ کی عبادت اس طرح کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو (بخاری، مسلم)۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَا
وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا
”یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا“ ”اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا“ (الشمس 91:9 تا 10)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ ذِكْرًۭا كَثِيرًۭا
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو“ (الاحزاب 33:41)
حسن بصریؒ اور رابعہ بصریؒ جیسی ابتدائی شخصیات نے اللہ کے خوف اور اللہ کی محبت پر زور دیا۔ جنید بغدادیؒ اور امام غزالیؒ نے تصوف کو افراط سے بچانے کے لیے اسے شریعت سے مضبوطی سے جوڑا۔ امام غزالیؒ کی ”احیاء علوم الدین“ نے اسے مرکزی دھارے کی سنی علمی روایت میں ایک مضبوط مقام دیا۔
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ …
”اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا“ (آلِ عمران 3:31)
اسلام کی اشاعت میں تصوف کی اہمیت
صوفیہ اور اسلام کی اشاعت
- جنوبی ایشیا: ہجویری، چشتی، زکریا، بابا فرید
- وسطی ایشیا: یسوی اور نقشبندی سلسلے
- جنوب مشرقی ایشیا: تاجر اور ولی سانگا
- افریقہ: قادریہ اور تیجانیہ
جنوبی ایشیا
صوفی بزرگ مقامی آبادی کو مسلمان بنانے والوں میں سب سے زیادہ اثر انگیز تھے۔ شیخ علی ہجویریؒ، جو داتا گنج بخش کے نام سے مشہور ہیں، گیارہویں صدی میں لاہور میں آباد ہوئے، اور انہوں نے ”کشف المحجوب“ لکھی، جو تصوف پر فارسی کی قدیم ترین کتابوں میں سے ہے۔ اجمیر کے خواجہ معین الدین چشتیؒ، پاکپتن کے بابا فرید گنج شکرؒ، ملتان کے شیخ بہاء الدین زکریاؒ، سہون کے لعل شہباز قلندرؒ اور دہلی کے خواجہ نظام الدین اولیاءؒ سب نے بڑی تعداد میں پیروکار پیدا کیے، خاص طور پر غریبوں اور نچلی ذاتوں میں، جن کے لیے اسلام کا مساوات کا پیغام خاص کشش رکھتا تھا۔ محققین اب بھی بحث کرتے ہیں کہ قبولِ اسلام کیسے ہوا؛ مثال کے طور پر رچرڈ ایٹن نے دکھایا ہے کہ یہ عمل بتدریج تھا اور زرعی آبادکاری سے بھی جڑا تھا۔ سر تھامس آرنلڈ کی کتاب ”دعوتِ اسلام“ (1896) نے بھی پرامن تبلیغ پر زور دیا۔
وسطی ایشیا اور ترکی
احمد یسویؒ نے ترک اقوام میں اسلام پھیلایا، اور نقشبندی سلسلہ بہت اثر انگیز بن گیا۔ رومیؒ کی ”مثنوی“ اور مولویہ سلسلے نے اناطولیہ اور اس سے آگے روحانی زندگی کو تشکیل دیا۔
جنوب مشرقی ایشیا
تاجر اور صوفی مبلغ اسلام کو پرامن طریقے سے انڈونیشیا اور ملائیشیا لے گئے، جہاں آج بہت بڑی مسلم آبادی ہے۔ جاوا کے ’ولی سانگا‘ (نو اولیا) کو اسی کردار کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
افریقہ
قادریہ اور تیجانیہ جیسے سلسلوں نے مغربی افریقہ میں وسیع پیمانے پر اسلام پھیلایا۔ سنوسیہ اور مریدیہ نے بھی برادریوں اور تعلیم کو منظم کیا۔
صوفیہ کے طریقے۔
ذاتی نمونہ
لوگ دلائل سے زیادہ ان کی سادہ زندگی اور دیانت دارانہ معاملات کی طرف کھنچے چلے آئے۔
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌۭ …
”در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا“ (الاحزاب 33:21)
لنگر کے ذریعے خدمت۔ بابا فریدؒ کے لنگر جیسے مفت کھانے کے انتظامات نے مذہب یا ذات سے قطع نظر لوگوں کو کھانا کھلایا، اور داتا دربار اور دوسری جگہوں پر یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
مساوات
خانقاہ میں ایک ساتھ بیٹھنے نے ذات پات کی دیواروں کو چیلنج کیا۔
مقامی زبانیں اور شاعری
بابا فریدؒ نے ابتدائی پنجابی میں لکھا، جبکہ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، بلھے شاہؒ، سلطان باہوؒ اور رحمان باباؒ یہ پیغام سندھی، پنجابی اور پشتو میں لے گئے۔ موسیقی اور شاعری ان لوگوں تک پہنچی جو پڑھ نہیں سکتے تھے۔
حکمت اور نرمی
یہ قرآن کی ہدایات کے مطابق ہے۔
ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ وَجَٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ …
”اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو“ (النحل 16:125)
حکمرانوں کی اصلاح
شیخ احمد سرہندیؒ (مجدد الفِ ثانی) جیسے بزرگوں نے مغل شہنشاہ اکبر کی مذہبی پالیسیوں کو چیلنج کیا، اور دکھایا کہ تصوف اقتدار کا سامنا کر سکتا ہے۔
موجودہ انحراف کیا ہے؟
اخلاقی انحراف
اس میں بددیانتی، بدعنوانی، لالچ، منافقت اور والدین اور کمزوروں سے غفلت شامل ہیں۔
روحانی خلا
مادہ پرستی اور ڈیجیٹل انتشار نے، خاص طور پر نوجوانوں میں، بے چینی اور بے مقصدیت کو جنم دیا ہے۔
روح کے بغیر رسمیت
عبادت اکثر اس طرح ادا کی جاتی ہے کہ کردار پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ نفرت
پرتشدد گروہ قتل کو جائز ٹھہرانے کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں، جن میں مزارات پر حملے بھی شامل ہیں، جیسے 2010 میں داتا دربار اور 2017 میں سہون۔
کیا تصوف اس کی اصلاح کر سکتا ہے؟
یہ کیسے مدد کر سکتا ہے۔
دل کا علاج
قوانین رویے کو روک سکتے ہیں، جبکہ تصوف لالچ، تکبر اور حسد کا ان کی جڑ سے علاج کرتا ہے۔
… أَلَا بِذِكْرِ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ
”خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے“ (الرعد 13:28)
انتہا پسندی کا متبادل بیانیہ
محبت اور رواداری پر صوفیانہ زور عسکری بیانیوں کا ایک متبادل پیش کرتا ہے، جیسا کہ پاکستان کے پالیسی سازوں نے بعض اوقات نشاندہی کی ہے۔
سماجی خدمت
لنگر کی روایت جدید فلاحی کوششوں کے لیے ترغیب بن سکتی ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی
جن مزارات پر مسلمان، ہندو اور سکھ جمع ہوتے ہیں وہ باہمی تعلق کے لیے ایک مشترکہ جگہ فراہم کرتے ہیں۔
متوازن شناخت
یہ نوجوانوں کو جدید زندگی کو رد کیے بغیر روحانی معنویت دیتا ہے، اور اس کے بہت سے شاعر آج بھی مقبول ہیں۔
اس کی حدود اور غلط استعمال۔
بدعنوان رسوم
بعض پیر پیسے، جنسی استحصال یا سیاسی طاقت کے لیے مریدوں کا استحصال کرتے ہیں۔ توہمات، قبر پرستی اور یہ عقیدہ کہ کوئی ولی شریعت سے بے نیاز ہو سکتا ہے، خود بڑے صوفیہ کی تعلیمات کے منافی ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ اور دوسروں نے ایسی رسوم کی اصلاح کی کوشش کی۔
جاگیردارانہ اور سیاسی روابط
سندھ اور پنجاب میں موروثی گدی نشین خاندان اکثر طاقتور جاگیردار اور سیاست دان ہیں۔ ان کا اثر و رسوخ اسی ناانصافی کو سہارا دے سکتا ہے جس کی اصلاح درکار ہے۔
بے عملی
علامہ اقبال نے رومیؒ کی تعریف کرتے ہوئے تصوف کی ان صورتوں پر تنقید کی جو کنارہ کشی اور تقدیر پرستی کی حوصلہ افزائی کرتی اور مسلمانوں کے عزم کو کمزور کرتی تھیں۔ وہ ایک روحانی طور پر متحرک اسلام چاہتے تھے، جس میں خودی کو فنا کرنے کے بجائے پروان چڑھایا جائے۔
عقائد کے تنازعات
سلفی اور بعض دیوبندی ناقدین مزارات پر شفاعت طلب کرنے جیسی بعض رسوم کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ کوئی بھی احیا فرقہ وارانہ تصادم کا ایک اور ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
اکیلا کافی نہیں
بدعنوانی، غربت اور دہشت گردی کے ساختی اسباب ہیں، جن کے لیے قانون، معاشی پالیسی اور تعلیم درکار ہیں۔ روحانی اصلاح ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ نیز ”صوفی اسلام“ کو ”انتہا پسند اسلام“ کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر پیش کرنا، جیسا کہ بعض حکومتوں نے کیا ہے، معاملے کو حد سے زیادہ سادہ بنانے کا خطرہ رکھتا ہے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
حقیقی اصلاح کی شرائط
قرآن و سنت کی پیروی
جیسا کہ جنید بغدادیؒ نے فرمایا، یہ راستہ کتاب و سنت کا پابند ہے۔
حقیقی روح کی بحالی
کرامات، موروثی دعووں اور رسومات کے بجائے تزکیہ، خدمت اور کردار پر زور دیا جائے۔
مزارات کی اصلاح
محکمۂ اوقاف کو شفافیت یقینی بنانی چاہیے اور مزارات کی آمدنی تعلیم اور صحت پر خرچ کرنی چاہیے۔
جدید دنیا سے تعلق
اسکولوں، جامعات اور میڈیا کے ذریعے اخلاقیات اور روحانی نشوونما کی تعلیم دی جائے، مگر اسے تجارتی نہ بنایا جائے۔
انصاف کے ساتھ اشتراک
روحانیت کو دیانت دار حکمرانی، قانون کی حکمرانی اور سماجی بہبود سے جوڑنا ضروری ہے۔
اختتامیہ
تصوف نے ذاتی نمونے، خدمت، مساوات اور مقامی زبانوں کے ذریعے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں اسلام کی پرامن اشاعت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ موجودہ اخلاقی زوال، روحانی خلا اور انتہا پسندی کا حقیقی تصوف کے ذریعے، جو انسانی دل تک پہنچتا ہے، واقعی جزوی علاج ممکن ہے۔ لیکن اس کے لیے ایسا تصوف درکار ہے جو قرآن و سنت پر مبنی ہو، استحصال اور توہمات سے پاک ہو، اور انصاف کی وسیع تر جدوجہد سے جڑا ہو۔ دل کی اصلاح اور معاشرے کی اصلاح ساتھ ساتھ چلنی چاہیے۔
The writer can be reached at ma6749429@gmail.com
قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔
Answered this question differently?
Submit your own answer — approved answers are published with your name.
Get new solved papers on WhatsApp
Follow the CSS Nexus channel to hear first when new answers are published.

Corrections and discussion
Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.