CSS 2024اسلامیاتQ. 7
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں پاکستان میں مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ وضاحت کیجیے۔
تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·
یہ CSS 2024 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 7) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
خاکہ
- 1۔ تعارف
- 2۔ پاکستان میں مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی
- 3۔ انتہا پسندی پر نبوی تعلیمات
- 4۔ مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ
- 5۔ سیاسی انتہا پسندی کا خاتمہ
- 6۔ مشترکہ علاج
- 7۔ اختتامیہ
جواب
تعارف
پاکستان کو انتہا پسندی کی دو باہم مربوط صورتوں کا سامنا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی فرقہ وارانہ قتل، دہشت گردی اور ہجوم کے تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ سیاسی انتہا پسندی نفرت انگیز تقریر، دوسرے فریق کی قانونی حیثیت ماننے سے انکار، سرکاری املاک پر حملوں اور مخالفین کو غدار سمجھنے میں نظر آتی ہے۔ دونوں اختلاف کو قبول نہ کرنے میں مشترک ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو سخت مذہبی اور سیاسی مخالفت کا سامنا رہا، اور آپ ﷺ کا نمونہ دونوں کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی
پاکستان میں انتہا پسندی
- مذہبی: دہشت گردی، فرقہ وارانہ نفرت، تکفیر، ہجوم کے حملے
- سیاسی: نفرت انگیز تقریر، حریفوں کو ناجائز قرار دینا، تشدد، انتقام، مذہب کا غلط استعمال
مذہبی انتہا پسندی
مثالوں میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ (2014)، جڑانوالہ میں گرجا گھروں پر حملے (2023) اور شیعہ جلوسوں اور صوفی مزاروں پر حملے شامل ہیں۔
سیاسی انتہا پسندی
مثالوں میں پُرتشدد احتجاج اور دھرنے، سرکاری عمارتوں پر حملے اور مئی 2023 میں سرکاری اور فوجی مقامات پر حملے شامل ہیں۔ جماعتیں اکثر ایک دوسرے کو حریف کے بجائے دشمن سمجھتی ہیں، جبکہ مقدمات، گرفتاریاں اور آن لائن گالم گلوچ معمول کے ہتھیار بن گئے ہیں۔ توہینِ مذہب یا کفر کے الزامات کے ذریعے مذہب کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انتہا پسندی پر نبوی تعلیمات
غلو سے خبردار
”دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوئے“ (نسائی، ابن ماجہ)۔ ”غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے“، یہ بات آپ ﷺ نے تین بار فرمائی (مسلم)۔
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةًۭ وَسَطًۭا …
”اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے“ (البقرہ 2:143)
آسانی پیدا کرنا
”آسانی پیدا کرو اور مشکل نہ بناؤ“ (بخاری، مسلم)۔ ”یہ دین آسان ہے، اور جو اس میں سختی کرے گا دین اس پر غالب آ جائے گا“ (بخاری)۔
نرمی
”اللہ نرم ہے اور تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے“ (بخاری، مسلم)۔
فَبِمَا رَحْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلْقَلْبِ لَٱنفَضُّوا۟ مِنْ حَوْلِكَ …
”یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے“ (آلِ عمران 3:159)
مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ
1۔ تکفیر کو رد کیا جائے
نبی کریم ﷺ نے حضرت اسامہؓ کو سختی سے تنبیہ فرمائی جب انہوں نے کلمہ پڑھنے والے شخص کو قتل کر دیا، اور پوچھا: ”کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟“ (بخاری، مسلم)۔ آپ ﷺ نے خبردار کیا کہ کسی مسلمان کو کافر کہنا کہنے والے پر پلٹ آتا ہے (بخاری، مسلم)۔
2۔ اختلافات کا احترام
جب صحابہ میں بنو قریظہ پہنچ کر نمازِ عصر پڑھنے کی ہدایت پر اختلاف ہوا تو آپ ﷺ نے کسی گروہ کی مذمت نہیں کی (بخاری)۔ پاکستان کے سنی، شیعہ اور دیگر مکاتب کو نفرت کے بغیر اختلاف کرنا سیکھنا چاہیے۔ قانون کو نفرت انگیز تقریر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور فرقہ وارانہ تنظیموں کو سیاسی گنجائش نہیں ملنی چاہیے۔
إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌۭ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ …
”مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو“ (الحجرات 49:10)
3۔ جان کی حرمت اور ریاستی اختیار
آپ ﷺ نے شہریوں کے قتل سے منع فرمایا اور معاہدوں کے تحت رہنے والوں کے قتل سے خبردار کیا (بخاری)۔ نجی گروہ جہاد کا اعلان نہیں کر سکتے، جیسا کہ پیغامِ پاکستان میں بیان ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل ہونا چاہیے۔
4۔ ہجوم کے تشدد کا خاتمہ
نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑایا گیا اور آپ ﷺ کی توہین کی گئی، لیکن آپ ﷺ نے ایسا کرنے والوں کے خلاف ہجوم کو نہیں بھڑکایا۔ آپ ﷺ نے اس بدو پر صبر کیا جس نے آپ ﷺ کی چادر کھینچی، اور اس پر بھی جس نے مسجد میں پیشاب کیا (بخاری، مسلم)۔ الزامات کی تحقیق ریاستی ادارے کریں، جھوٹے الزام لگانے والوں کو سزا ملے، اور حملہ کرنے والوں پر فوری مقدمہ چلے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍۢ فَتَبَيَّنُوٓا۟ أَن تُصِيبُوا۟ قَوْمًۢا بِجَهَٰلَةٍۢ فَتُصْبِحُوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَٰدِمِينَ
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو“ (الحجرات 49:6)
5۔ اقلیتوں کا تحفظ
میثاقِ مدینہ اور معاہدۂ نجران نمونہ پیش کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے خبردار کیا کہ جو معاہد غیر مسلم پر ظلم کرے گا، آپ ﷺ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے (ابو داؤد)۔
لَّا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمْ يُقَٰتِلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوٓا۟ إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ
”اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“ (الممتحنہ 60:8)
6۔ مذہبی تعلیم اور تبلیغ کی اصلاح
مدارس کے نصاب میں جدید مضامین کے ساتھ سیرت کو رواداری کے نمونے کے طور پر شامل کیا جائے۔ تبلیغ قرآن کے حکمت والے طریقے پر ہونی چاہیے۔
ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ وَجَٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ …
”اے نبیؐ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو“ (النحل 16:125)
سیاسی انتہا پسندی کا خاتمہ
1۔ سیاسی مخالفین کو تسلیم کرنا
نبی کریم ﷺ نے اپنے سخت ترین مخالفین سے مذاکرات کیے۔ حدیبیہ میں آپ ﷺ نے سہیل بن عمرو سے صلح کے لیے ”محمد رسول اللہ“ کے الفاظ بدلنے کی اجازت دی، کیونکہ وہ یہ لقب ماننے کو تیار نہ تھے (بخاری، مسلم)۔ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو آپس میں بات کرنا سیکھنا چاہیے اور ماننا چاہیے کہ اقتدار پُرامن طور پر حریف کو منتقل ہو سکتا ہے۔
2۔ قومی مفاد کے لیے سمجھوتہ
حدیبیہ ظاہر کرتی ہے کہ سمجھوتہ کمزوری نہیں۔ میثاقِ جمہوریت (2006) ایک مثبت قدم تھا جو اپنا اثر کھو بیٹھا۔ جماعتوں میں نئے معاہدے کی ضرورت ہے، جس میں ضابطۂ اخلاق اور انتخابی نتائج کی قبولیت شامل ہو۔
وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
”اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے“ (الانفال 8:61)
3۔ گفتگو میں نظم و ضبط
قرآن مذاق اڑانے اور برے القاب سے منع کرتا ہے، جو اب پاکستانی سیاست میں عام ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے“ (بخاری، مسلم)، اور مومن طعنہ نہیں دیتا، لعنت نہیں کرتا اور فحش گوئی نہیں کرتا (ترمذی)۔ پارٹی کارکنوں اور سوشل میڈیا ٹیموں کو اس معیار کا پابند ہونا چاہیے۔
… وَلَا تَلْمِزُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا۟ بِٱلْأَلْقَٰبِ …
”آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو“ (الحجرات 49:11)
4۔ تنقید کی برداشت
حضرت عمرؓ نے نبوی نمونے پر عمل کرتے ہوئے عوامی سوالات کے جواب دیے اور اصلاح قبول کی۔ حکومتوں کو پُرامن احتجاج اور آزاد میڈیا کی اجازت دینی چاہیے۔ ساتھ ہی احتجاج پُرتشدد نہیں ہونا چاہیے اور سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
5۔ انتقام کے بجائے معافی
پاکستانی سیاست اکثر انتقام پر چلتی ہے، ہر حکومت پچھلی کے پیچھے لگی رہتی ہے۔ مکہ میں نبی کریم ﷺ نے بدلے کا حق چھوڑ دیا اور یوں دشمنوں کو حلیف بنا لیا۔
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
”آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے“ (یوسف 12:92)
6۔ مشاورت اور ادارے
آپ ﷺ صحابہ سے مشورہ کرتے تھے، چاہے آپ ﷺ کی اپنی رائے مختلف ہو، جیسا کہ احد کے موقع پر۔ مضبوط پارلیمان، کمیٹی نظام اور جماعتوں کی اندرونی جمہوریت اختلاف کے لیے راستے فراہم کر سکتے ہیں، تاکہ وہ سڑکوں پر نہ آئے۔
… وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ …
”اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں“ (الشوریٰ 42:38)
7۔ مذہب کو سیاسی حملوں سے دور رکھنا
مخالفین پر مذہبی الزامات پاکستان میں جان لیوا ہیں، جیسا کہ 2011 میں سلمان تاثیر کے قتل اور دیگر سیاسی شخصیات پر حملوں میں دیکھا گیا۔ جماعتوں کو طے کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف ایسے الزامات استعمال نہیں کریں گی۔
8۔ آئین کا احترام
سول اور فوجی تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ معاہدوں کی پابندی کی جائے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ …
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پوری پابندی کرو“ (المائدہ 5:1)
مشترکہ علاج
انصاف
سست عدالتیں اور غیر مساوی سلوک لوگوں کو انتہائی اقدامات کی طرف دھکیلتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے قانون میں سب کے لیے مساوات قائم رکھی۔ انصاف بروقت اور منصفانہ ہونا چاہیے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ بِٱلْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ …
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو“ (النساء 4:135)
تعلیم اور شہری اقدار
طلبہ کو تنقیدی سوچ اور مخالف آرا سننا سکھایا جائے۔
معاشی مواقع
نوجوانوں کی بے روزگاری ہر طرح کی انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے۔ مدینہ کی اخوت، زکوٰۃ اور غریبوں کی مدد ظاہر کرتی ہے کہ جماعت ضرورت مندوں کی کفالت کیسے کر سکتی ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کی نگرانی
ذمہ دار میڈیا، حقائق کی جانچ اور اشتعال انگیزی کے خلاف کارروائی ضروری ہے، اور اس کے ساتھ آزادیٔ اظہار کا تحفظ بھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کر دے“ (مسلم)۔
ذاتی نمونہ
مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو وہی کرنا چاہیے جو وہ دوسروں سے کہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سب سے پہلے اپنے قوانین خود پر اور اپنے خاندان پر لاگو کرتے تھے۔
اختتامیہ
پاکستان میں مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی دونوں عدم برداشت، طاقت کے غلط استعمال اور انصاف کی کمی سے پیدا ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ اعتدال، آسانی، نرمی، اختلافات کا احترام، جان کی حرمت، تحقیق، مکالمہ، سمجھوتہ، گفتگو میں نظم اور معافی کی تعلیم دیتے ہیں۔ آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ ان سبق کو قانون، تعلیم، سیاسی معاہدے اور ذاتی طرزِ عمل کے ذریعے نافذ کیا جائے۔ اس طرح پاکستان نفرت اور انتقام سے نکل کر ایسا معاشرہ بن سکتا ہے جہاں لوگ امن سے اختلاف کریں۔
The writer can be reached at ma6749429@gmail.com
قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔
Answered this question differently?
Submit your own answer — approved answers are published with your name.
Get new solved papers on WhatsApp
Follow channel
Corrections and discussion
Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.