CSS 2024اسلامیاتQ. 6
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں پاکستان کے نظامِ احتساب کو کس طرح مثالی بنایا جا سکتا ہے؟ وضاحت کیجیے۔
تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·
یہ CSS 2024 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 6) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
خاکہ
- 1۔ تعارف
- 2۔ پاکستان کا موجودہ نظامِ احتساب اور اس کی کمزوریاں
- 3۔ احتساب پر نبوی تعلیمات
- 4۔ پاکستان کے نظام کو مثالی کیسے بنایا جائے
- ✓آغاز اوپر سے ہو
- ✓بلا استثنا مساوات
- ✓آزاد اور منصفانہ ادارے
- ✓قانونی طریقۂ کار اور ثبوت
- ✓اثاثوں کی شفافیت اور مفادات کا ٹکراؤ
- ✓تقرریوں میں میرٹ
- ✓شہریوں کا تحفظ اور آواز
- ✓پیش بندی اور اخلاقی اصلاح
- 5۔ عملی حدود
- 6۔ اختتامیہ
جواب
تعارف
پاکستان میں انسدادِ بدعنوانی کے کئی ادارے اور بہت سے قوانین ہیں، لیکن احتساب پر عوامی اعتماد کم ہے۔ ہر حکومت پچھلی پر الزام لگاتی ہے، مقدمات سیاسی تبدیلی کے ساتھ بنتے اور بگڑتے ہیں، اور سب سے طاقتور اکثر بچ نکلتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ایک مختلف نمونہ پیش کرتی ہیں: ایسا احتساب جو اوپر سے شروع ہو، سب پر یکساں لاگو ہو، ثبوت پر قائم ہو اور خوفِ خدا سے قوت حاصل کرے۔
موجودہ نظامِ احتساب اور اس کی کمزوریاں
ادارے
ان میں قومی احتساب بیورو (NAB، 1999)، وفاقی تحقیقاتی ادارہ، صوبائی انسدادِ بدعنوانی محکمے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، وفاقی محتسب اور عدالتیں شامل ہیں۔
کمزوریاں۔
نظام کی کمزوریاں
- منتخب اور سیاسی استعمال
- استثنا اور رعایتیں
- طویل تاخیر
- کمزور ثبوت
- اداروں کا ٹکراؤ
- عوام کی کم رسائی
- سزا سے بچنے کی ثقافت
اعلیٰ عدالتوں نے NAB پر سیاسی استعمال کی تنقید کی ہے، جس میں سزا کے بغیر طویل حراست بھی شامل ہے، اور 2022 کی ترامیم نے اس کا دائرہ کار بہت کم کر دیا۔ ججوں اور فوجی افسروں کے اپنے داخلی نظام ہیں، اور بعض عہدے داروں کو آرٹیکل 248 کے تحت آئینی استثنا حاصل ہے۔ آڈٹ کے نتائج پر اکثر کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی عموماً خراب رہی ہے۔
احتساب پر نبوی تعلیمات
1۔ جواب دہی سب کے لیے ہے
”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حکمران نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا“ (بخاری، مسلم)۔
2۔ اللہ کے سامنے جواب دہی
آپ ﷺ نے خبردار کیا کہ جو حکمران اپنی رعایا کو دھوکا دیتے ہوئے مرے، وہ جنت سے محروم رہے گا (بخاری، مسلم)۔
… إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًۭا
”یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے“ (الاسراء 17:36)
3۔ عوامی عہدہ نجی فائدے کے لیے نہیں
جب ابن اللتبیہ زکوٰۃ اور اپنے ملنے والے تحفے لے کر واپس آئے تو نبی کریم ﷺ نے برسرِ عام پوچھا کہ وہ اپنے والدین کے گھر کیوں نہ بیٹھے رہے تاکہ دیکھتے کہ تحفے آتے ہیں یا نہیں (بخاری، مسلم)۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عہدے دار جو کچھ ناجائز لے گا اسے قیامت کے دن اٹھائے ہوئے آئے گا۔
… وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ …
”جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا“ (آلِ عمران 3:161)
4۔ مساوات
بنو مخزوم کی معزز خاتون کے معاملے میں آپ ﷺ نے سفارش رد کرتے ہوئے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا“ (بخاری، مسلم)۔
5۔ امانت اور انصاف۔
إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلْأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا۟ بِٱلْعَدْلِ …
”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو“ (النساء 4:58)
پاکستان کے نظام کو مثالی کیسے بنایا جائے
1۔ آغاز اوپر سے ہو
روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ نے اپنے آخری دنوں میں پیشکش کی کہ جس کے ساتھ آپ ﷺ سے زیادتی ہوئی ہو وہ بدلہ لے لے۔ جب نبی کریم ﷺ نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا تو پاکستان کا کوئی صدر، وزیرِ اعظم، جرنیل یا جج خود کو اس سے بالاتر نہیں کہہ سکتا۔ آرٹیکل 248 کے استثنا اور ایسے دیگر تحفظات پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے، تاکہ وہ سرکاری فرائض کا تحفظ کریں، ذاتی غلط کاری کا نہیں۔
2۔ بلا استثنا مساوات
سول اور فوجی تمام ادارے افشا اور جانچ کے یکساں معیار کے پابند ہونے چاہییں۔ مخالفین کے خلاف منتخب کارروائی خود ناانصافی ہے، جس سے قرآن خبردار کرتا ہے۔
… وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ …
”کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے“ (المائدہ 5:8)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ بِٱلْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَوِ ٱلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ …
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو“ (النساء 4:135)
3۔ آزاد اور منصفانہ ادارے
حضرت علیؓ اپنے ہی قاضی کے سامنے عام فریق کی حیثیت سے پیش ہوئے۔ NAB اور FIA کے سربراہوں کا تقرر شفاف اور دو طرفہ طریقے سے ہو، ان کی مدت مقرر ہو اور انہیں سیاسی مداخلت سے تحفظ حاصل ہو۔ اداروں کے درمیان بے ترتیب ٹکراؤ ختم ہونا چاہیے، ممکن ہے کہ واضح دائرہ اختیار والا ایک آزاد کمیشن بنا کر۔
4۔ قانونی طریقۂ کار اور ثبوت
نبی کریم ﷺ نے سکھایا کہ ثبوت کی ذمہ داری دعویٰ کرنے والے پر ہے (بیہقی)، اور قاضی کو دونوں فریقوں کو سننا چاہیے (ابو داؤد، ترمذی)۔ آپ ﷺ نے خبردار کیا کہ بعض لوگ اپنا مقدمہ زیادہ خوش بیانی سے پیش کر سکتے ہیں، اور ناحق جیتنے سے صرف آگ کا ٹکڑا ملتا ہے (بخاری، مسلم)۔ لہٰذا میڈیا ٹرائل، مقدمے سے پہلے طویل حراست اور ثبوت کے بغیر استغاثہ نہیں ہونا چاہیے۔ مقدمات کی مدت مقرر ہونی چاہیے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍۢ فَتَبَيَّنُوٓا۟ أَن تُصِيبُوا۟ قَوْمًۢا بِجَهَٰلَةٍۢ فَتُصْبِحُوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَٰدِمِينَ
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو“ (الحجرات 49:6)
5۔ اثاثوں کی شفافیت اور مفادات کا ٹکراؤ
حضرت عمرؓ کی مثال پر، جو گورنروں کی دولت کا ریکارڈ رکھتے تھے، ہر سطح کے عہدے داروں کو مدتِ ملازمت سے پہلے، دوران اور بعد میں خاندانی اثاثوں سمیت اپنے اثاثے عوامی طور پر ظاہر کرنے چاہییں۔ سرکاری تحائف کے قواعد ابن اللتبیہ والے اصول پر ہونے چاہییں۔ توشہ خانہ کے تنازعات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کتنا اہم ہے، اور ریکارڈ کی اشاعت معمول ہونی چاہیے۔
6۔ تقرریوں میں میرٹ
بدعنوانی اکثر اس سے شروع ہوتی ہے کہ تقرر کس کا ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے عہدے کے خواہش مندوں کو عہدہ دینے سے انکار کیا (بخاری، مسلم)، اور حضرت ابو ذرؓ سے فرمایا کہ وہ اس کے لیے کمزور ہیں (مسلم)۔ تقرریاں میرٹ پر ہوں اور اہم عہدوں کے لیے عوامی سماعت ہو۔
… إِنَّ خَيْرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِينُ
”بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبُوط اور امانت دار ہو“ (القصص 28:26)
7۔ شہریوں کی آواز
شکایت کرنا اور اس پر کارروائی آسان ہونی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کی ضرورتوں پر دروازہ بند کرنے سے خبردار کیا (ابو داؤد، ترمذی)، اور ”سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے“ (ابو داؤد، ترمذی)۔ پاکستان کو معلومات تک رسائی کے قانون 2017، محتسب اداروں، سٹیزن پورٹل اور آزادیٔ صحافت کو مضبوط بنانا چاہیے، اور بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے مضبوط تحفظ کا قانون بنانا چاہیے۔
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌۭ يَدْعُونَ إِلَى ٱلْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
”تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے“ (آلِ عمران 3:104)
8۔ معائنہ اور آڈٹ
نبی کریم ﷺ اپنے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کا حساب دیکھتے تھے۔ بعد میں حضرت محمد بن مسلمہؓ نے حضرت عمرؓ کے لیے یہ کام کیا۔ آڈٹ رپورٹیں عوام کے سامنے لائی جائیں، مقررہ وقت میں کارروائی لازم ہو، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے فیصلے نافذ کیے جائیں۔
9۔ وصولی اور منصفانہ سزا
چوری شدہ سرکاری رقم واپس ہونی چاہیے اور سزائیں یکساں طور پر دی جانی چاہییں۔ پلی بارگین، جن میں طاقتور لوگ لی گئی رقم کا چھوٹا حصہ دے کر چھوٹ جاتے ہیں، انصاف کے تصور کو کمزور کرتی ہیں۔
10۔ بدعنوانی کے مواقع کم کیے جائیں
ڈیجیٹل خدمات، آسان طریقۂ کار اور مناسب تنخواہ، جیسا کہ حضرت علیؓ نے مالک اشتر کے نام خط میں مشورہ دیا، لالچ کو کم کر سکتے ہیں۔
11۔ اخلاقی اصلاح اور خود احتسابی
بیرونی نظام ایک حد تک ہی کام کر سکتے ہیں۔ ایسی ثقافت جس میں انسان اللہ سے ڈرے، رشوت پر شرمندہ ہو اور بدعنوانی کی دولت کا جشن نہ منائے، کسی بھی ادارے کا کام آسان کر دیتی ہے۔ اسکول، مساجد، میڈیا اور خاندان سب کو اس میں حصہ ڈالنا چاہیے۔
وَلَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ وَتُدْلُوا۟ بِهَآ إِلَى ٱلْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا۟ فَرِيقًۭا مِّنْ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
”اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے“ (البقرہ 2:188)
عملی حدود
ساتویں صدی کا مدینہ ایک چھوٹی برادری تھا جس کی اپنے رہنما تک براہِ راست رسائی تھی، جبکہ پاکستان کی آبادی بہت بڑی اور ادارے پیچیدہ ہیں۔ نبوی اصولوں کو فرانزک آڈٹ، ڈیٹا کے تجزیے اور پیشہ ور تفتیش کاروں جیسے جدید ذرائع کی ضرورت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذات بھی منفرد تھی، اور آج کوئی حکمران آپ ﷺ کے اخلاقی مقام کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ترقی کا انحصار سیاسی اتفاقِ رائے، آزاد صحافت اور سول ملٹری توازن پر بھی ہے، جسے حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اختتامیہ
پاکستان کا نظامِ احتساب نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں مثالی بن سکتا ہے اگر وہ اوپر سے شروع ہو، سب سے یکساں سلوک کرے، آزاد اداروں اور مضبوط ثبوت پر قائم ہو، عہدے داروں کی دولت کو شفاف بنائے، تقرریاں میرٹ پر کرے اور شہریوں کو بولنے دے۔ ان اصولوں کو جدید ذرائع اور اخلاقی اصلاح کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ حقیقی احتساب مخالفین سے انتقام نہیں بلکہ سب کے لیے انصاف ہے، اور یہ اقتدار والوں سے شروع ہوتا ہے۔
The writer can be reached at ma6749429@gmail.com
قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔
Answered this question differently?
Submit your own answer — approved answers are published with your name.
Get new solved papers on WhatsApp
Follow channel
Corrections and discussion
Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.