CSS 2024اسلامیاتQ. 3
غزواتِ نبوی ﷺ کا بنیادی مقصد امن کا قیام تھا۔ وضاحت کیجیے۔
تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·
یہ CSS 2024 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 3) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
خاکہ
- 1۔ تعارف
- 2۔ جنگ کا قرآنی مقصد
- 3۔ امن کے مقصد ہونے کے شواہد
- ✓دفاعی نوعیت
- ✓معاہدوں کو ترجیح
- ✓محدود جانی نقصان
- ✓جنگ میں طرزِ عمل
- ✓فتح کے بعد معافی
- 4۔ غزوات کا الگ الگ تجزیہ
- 5۔ نتائج: عرب میں امن اور سلامتی
- 6۔ اعتراضات کا جائزہ
- 7۔ آج کے لیے اسباق
- 8۔ اختتامیہ
جواب
تعارف
غزوات وہ مہمات تھیں جن میں نبی کریم ﷺ نے بذاتِ خود شرکت فرمائی، جو زیادہ تر 2 ہجری اور 9 ہجری کے درمیان ہوئیں۔ ناقدین انہیں توسیع پسندانہ جنگیں قرار دیتے ہیں، جبکہ انتہا پسند انہیں تشدد کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دونوں نقطۂ نظر ان کے مقصد سے ناواقف ہیں۔ گہرا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد جارحیت کا خاتمہ، عقیدے کی آزادی کا تحفظ اور پائیدار امن کا قیام تھا۔ یہ مقصد قرآن، آپ ﷺ کے طرزِ عمل اور نتائج سے واضح ہے۔
جنگ کا قرآنی مقصد
جارحیت کے خلاف دفاع
اجازت تیرہ سال کے ظلم و ستم اور مکہ سے بے دخلی کے بعد ہی ملی۔
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَٰتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۟ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
”اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے“ (الحج 22:39)
سب کی عبادت کا تحفظ۔
… وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍۢ لَّهُدِّمَتْ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٌۭ وَصَلَوَٰتٌۭ وَمَسَٰجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا ٱسْمُ ٱللَّهِ كَثِيرًۭا …
”اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں“ (الحج 22:40)
ظلم کا خاتمہ، پھر رک جانا۔
وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَلَا عُدْوَٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ
”تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں“ (البقرہ 2:193)
امن کی قبولیت۔
وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
”اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے“ (الانفال 8:61)
امن کے مقصد ہونے کے شواہد
غزوات کا مقصد امن
- دفاعی پس منظر
- معاہدوں کو ترجیح
- محدود جانی نقصان
- جنگ کے اخلاقی اصول
- فتح کے بعد معافی
- پورے عرب میں سلامتی
1۔ دفاعی پس منظر
مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا، ان کی جائیدادیں ضبط کی گئیں، اور مدینہ کو بار بار خطرات کا سامنا رہا۔ احد اور خندق مدینہ کے قریب ہوئے، کیونکہ دشمن اسی پر چڑھ آیا تھا۔
2۔ معاہدوں کو ترجیح
آپ ﷺ نے ابتدا ہی میں ہمسایہ قبائل سے معاہدے کیے اور میثاقِ مدینہ طے کیا۔ آپ ﷺ نے جنگ کے بجائے بظاہر غیر مساوی صلحِ حدیبیہ قبول کی اور فرمایا کہ ہر وہ تجویز مان لوں گا جس میں اللہ کی حرمتوں کا احترام ہو (بخاری)۔ تبوک جیسی آپ ﷺ کی بہت سی ”مہمات“ لڑائی کے بغیر معاہدوں پر ختم ہوئیں۔
3۔ جنگ سے ناپسندیدگی
آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: ”دشمن سے ملنے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔ لیکن جب سامنا ہو جائے تو صبر کرو“ (بخاری، مسلم)۔ یہ جنگ کے شوقین کی زبان نہیں۔
4۔ محدود جانی نقصان
مؤرخین کے اندازے کے مطابق آپ ﷺ کی تمام مہمات میں سب فریقوں کی مجموعی ہلاکتیں کم تھیں، جو عام تخمینوں کے مطابق تقریباً ایک ہزار کے لگ بھگ تھیں۔ پورے جزیرہ نما کے اتحاد کے لیے یہ بہت چھوٹی تعداد ہے، اور بعاث کی طویل لڑائی جیسی عرب قبائلی جنگوں یا اس دور کی سلطنتوں کی جنگوں کے مقابلے میں بھی کم ہے۔
5۔ اخلاقی اصول
آپ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا (بخاری، مسلم)، اور عہد شکنی اور مثلہ کو حرام قرار دیا (مسلم)۔ بدر کے قیدیوں سے اچھا سلوک کیا گیا، اور بعض کو بچوں کو پڑھانے کے بدلے رہا کیا گیا۔ ایسے اصول امن کا امکان باقی رکھتے ہیں۔
وَقَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ
”اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ (البقرہ 2:190)
6۔ فتح کے بعد معافی
مکہ میں آپ ﷺ انتقام لینے کی طاقت رکھتے تھے، مگر آپ ﷺ نے عام معافی کا راستہ چنا۔
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
”آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے“ (یوسف 12:92)
غزوات کا الگ الگ تجزیہ
بدر (2 ہجری)
قریش تقریباً ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ نکلے، حالانکہ ان کا قافلہ محفوظ پہنچ چکا تھا، کیونکہ ابو جہل طاقت کا مظاہرہ کرنے پر مصر تھا۔ فتح نے ظاہر کیا کہ مسلمان اپنا دفاع کر سکتے ہیں، جس سے مزید حملوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ قیدیوں سے انسانی سلوک کیا گیا۔
احد (3 ہجری)
قریش مدینہ سے انتقام لینے آئے۔ یوں یہ واضح طور پر دفاعی جنگ تھی۔
خندق (5 ہجری)
تقریباً دس ہزار کے اتحادی لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کیا۔ نبی کریم ﷺ نے خندق کے پیچھے سے اس کا دفاع کیا اور دشمن میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی، کھلی جنگ سے گریز کیا۔ اتحادیوں کے جانے پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ اب قریش ان پر چڑھائی نہیں کریں گے (بخاری)، جو سلامتی کی طرف فیصلہ کن موڑ تھا۔
بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ
مسلم ماخذ کے مطابق یہ کارروائیاں میثاق کی خلاف ورزیوں، قتل کی سازشوں اور محاصرہ کرنے والوں سے گٹھ جوڑ کے بعد ہوئیں۔ ان کا تعلق جنگ کے زمانے میں داخلی سلامتی سے تھا۔ بنو قریظہ کے ساتھ سلوک آج بھی تاریخی بحث کا موضوع ہے، اور برکات احمد جیسے اہلِ علم نے روایتی بیان کے بعض پہلوؤں پر سوال اٹھائے ہیں۔
حدیبیہ (6 ہجری)
جنگ نہ ہونے کے باوجود یہ سفر آپ ﷺ کی ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ ﷺ زائر کے طور پر آئے اور دس سالہ صلح لے کر لوٹے۔
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًۭا مُّبِينًۭا
”اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی“ (الفتح 48:1)
خیبر (7 ہجری)
اس سے وہ مرکز ختم ہوا جس نے خندق کی منصوبہ بندی میں مدد دی تھی۔ وہاں کے لوگ طے شدہ شرائط پر اپنی زمین پر رہے، جو تباہی نہیں بلکہ ایک بندوبست تھا۔
مکہ (8 ہجری)
قریش کے حلیفوں نے صلح توڑی، اور آپ ﷺ تقریباً دس ہزار آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ گھروں میں رہنے والوں کو امان دے کر آپ ﷺ نے کم سے کم لڑائی سے شہر فتح کیا۔
حنین اور طائف (8 ہجری)
ہوازن نے حملے کے لیے بڑا لشکر جمع کیا۔ فتح کے بعد آپ ﷺ نے ان کی درخواست پر ان کے قیدی واپس کر دیے، اور بہت سے مسلمان ہو گئے۔ آپ ﷺ نے طائف کا محاصرہ اٹھا لیا اور اس کے لوگوں کے لیے دعا کی، جنہوں نے بعد میں پُرامن طور پر اسلام قبول کیا۔
تبوک (9 ہجری)
بازنطینی خطرے کی اطلاعات پر آپ ﷺ تقریباً تیس ہزار آدمیوں کے ساتھ شمالی سرحد تک گئے۔ کوئی لڑائی نہیں ہوئی، اور آپ ﷺ نے ایلہ جیسی برادریوں سے معاہدے کیے۔
نتائج: عرب میں امن اور سلامتی
ان مہمات سے پہلے عرب میں قبائلی حملوں، خونی انتقام اور غیر محفوظ راستوں کا غلبہ تھا۔ آپ ﷺ کی وفات تک جزیرہ نما بڑی حد تک پُرامن ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ ایک عورت حیرہ سے کعبہ تک سفر کرے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا (بخاری)، اور ایسا ہی ہوا۔ عام الوفود (9 ہجری) میں مختلف قبائل کے لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے خونی انتقام ختم کیا اور جان و مال کی حرمت کا اعلان فرمایا۔
… وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَآءًۭ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِۦٓ إِخْوَٰنًۭا …
”اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے“ (آلِ عمران 3:103)
اعتراضات کا جائزہ
”قافلوں پر بعض حملے جارحانہ تھے۔“
مسلمانوں کی جائیدادیں مکہ میں ضبط ہو چکی تھیں اور جنگ کی حالت پہلے سے موجود تھی۔ جدید عسکری فکر جاری جنگ میں دشمن کی تجارت پر حملوں کو بلا اشتعال جارحیت نہیں بلکہ معاشی جنگ سمجھتی ہے۔
”اسلام کو طاقت کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟“
نبی کریم ﷺ نے تیرہ سال امن کا راستہ آزمایا۔ تباہی کا سامنا کرنے والی برادری کو اپنے دفاع کا حق ہے، جسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 بھی تسلیم کرتا ہے۔
”سورۃ التوبہ کی آیات جنگ کا حکم دیتی ہیں۔“
یہ آیات ان مخصوص گروہوں سے متعلق تھیں جنہوں نے معاہدے توڑے تھے۔ اسی سورت میں فوراً معاہدے نبھانے والوں کو تحفظ دیا گیا ہے (التوبہ 9:4) اور پناہ مانگنے والوں کو امان دی گئی ہے۔
وَإِنْ أَحَدٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ٱسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُۥ …
”اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اُسے اس کے مامن تک پہنچا دو“ (التوبہ 9:6)
آج کے لیے اسباق
انتہا پسندوں کے لیے
غزوات دہشت گردی کی کوئی تائید نہیں کرتے، کیونکہ ان کی قیادت جائز سربراہِ ریاست نے کی، وہ سخت اخلاقی اصولوں کے پابند تھے اور ان کا مقصد امن تھا۔
ریاستوں کے لیے
طاقت آخری راستہ ہونی چاہیے، جائز وجوہات پر اور حدود کے اندر استعمال ہو، اور اس کے بعد مصالحت ہو۔ قبائلی علاقوں میں پاکستان کی پالیسی اور افغانستان سے اس کے تعلقات کو ایسے ہی طریقے کی ضرورت ہے۔
رہنماؤں کے لیے
بہادر سپہ سالار عظیم امن ساز بھی ہو سکتا ہے۔
اختتامیہ
غزواتِ نبوی بنیادی طور پر جارحیت کے خلاف دفاعی مہمات تھیں، محض فتح کے لیے جنگیں نہیں۔ ان کا مقصد جنگ کی قرآنی اجازت، معاہدوں کو ترجیح، کم جانی نقصان، جنگ کے سخت اصولوں اور فتح کے بعد معافی سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان کا نتیجہ پُرامن اور محفوظ عرب تھا۔ یوں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام میں جنگ آخری راستہ ہے اور امن اس کا مقصد ہے۔
The writer can be reached at ma6749429@gmail.com
قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔
Answered this question differently?
Submit your own answer — approved answers are published with your name.
Get new solved papers on WhatsApp
Follow channel
Corrections and discussion
Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.