CSS 2025اسلامیاتQ. 7
عہدِ نبوی کے بعد کی مسلم تاریخ کے تناظر میں مذہبی رواداری پر بحث کیجیے۔
تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·
یہ CSS 2025 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 7) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
خاکہ
- 1۔ تعارف
- 2۔ قرآن و سنت میں بنیادیں
- 3۔ خلفائے راشدین
- ✓بیت المقدس سے حضرت عمرؓ کا معاہدہ (638)
- 4۔ بنو امیہ اور بنو عباس
- ✓غیر مسلم عمال اور علما؛ بیت الحکمہ
- 5۔ مسلم اسپین (اندلس)
- 6۔ صلاح الدین ایوبی اور بیت المقدس (1187)
- 7۔ عثمانی: ملت نظام؛ ہسپانوی یہودیوں کو پناہ (1492)
- 8۔ برصغیر میں مسلم حکومت
- 9۔ کوتاہیاں اور ان کا پس منظر
- 10۔ آج کے لیے اسباق
- 11۔ اختتامیہ
جواب
تعارف
مذہبی رواداری کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے اور تحفظ و وقار کے ساتھ رہنے دیا جائے۔ اسلام نے اپنے ماخذ میں یہ اصول قائم کیا، اور تاریخ کے بڑے حصے میں مسلم ریاستوں نے ایسی مذہبی آزادی فراہم کی جو جدید دور سے پہلے کی دنیا میں غیر معمولی تھی۔
بنیادیں
”دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے“ (البقرہ 2:256)؛ ”تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین“ (الکافرون 109:6)۔ اللہ ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف سے منع نہیں کرتا جو مسلمانوں سے جنگ نہ کریں (الممتحنہ 60:8)۔ میثاقِ مدینہ اور نجران کے عیسائیوں سے معاہدے نے غیر مسلموں کے عقیدے، مال اور عبادت گاہوں کی ضمانت دی۔ نبی کریم ﷺ نے خبردار کیا کہ جو کسی معاہد غیر مسلم پر ظلم کرے گا، قیامت کے دن آپ ﷺ اس کے خلاف فریق ہوں گے (ابو داؤد)۔
خلفائے راشدین
جب 638 عیسوی میں بیت المقدس نے ہتھیار ڈالے تو حضرت عمرؓ خود تشریف لے گئے اور وہاں کے عیسائیوں کو ان کی جان، مال، گرجا گھروں اور صلیبوں کے تحفظ کا عہد نامہ دیا۔ مشہور تاریخی روایات کے مطابق آپؓ نے کلیسائے قیامت کے اندر نماز پڑھنے سے انکار کیا تاکہ مسلمان بعد میں اسے مسجد قرار نہ دیں۔ امام ابو یوسف کی کتاب الخراج میں یہ بھی مروی ہے کہ حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے اور ضرورت مند غیر مسلم کے لیے بیت المال سے مدد مقرر کی اور ایسے لوگوں کو جزیے سے مستثنیٰ کیا۔
بنو امیہ اور بنو عباس
عیسائی اور یہودی عمال، طبیب اور کاتب کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ بنو عباس کے دور میں بغداد کے بیت الحکمہ میں نسطوری عیسائی حنین بن اسحاق جیسے عیسائی، یہودی اور صابی علما یونانی، فارسی اور ہندوستانی کتابوں کے ترجمے کرتے تھے۔ غیر مسلم جزیہ ادا کرتے تھے، جس سے وہ فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہو جاتے تھے، اور ذاتی معاملات میں اپنے مذہبی قوانین کے تحت رہتے تھے۔
مسلم اسپین
اندلس میں مسلمان، عیسائی اور یہودی صدیوں تک ساتھ رہے اور قرطبہ، طلیطلہ اور غرناطہ کی پھلتی پھولتی ثقافت میں حصہ ڈالا۔ موسیٰ بن میمون اور ابن جبیرول جیسے یہودی علما نے عربی میں لکھا، اور یہودی برادریوں نے ”سنہری دور“ دیکھا۔ یہ بقائے باہمی عیسائی ری کونکوئسٹا اور 1492 اور اس کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں کی بے دخلی پر ختم ہوئی۔
صلاح الدین ایوبی
جب صلیبیوں نے 1099 میں بیت المقدس پر قبضہ کیا تو وہاں کے باشندوں کا قتلِ عام کیا۔ جب صلاح الدین نے 1187 میں شہر واپس لیا تو عیسائیوں کو اپنے سامان کے ساتھ جانے یا رہنے کی اجازت دی، مقدس مقامات کی حفاظت کی اور زیارت کی اجازت دی؛ اس طرزِ عمل کی تعریف ان کے دشمنوں نے بھی کی۔
عثمانی
ملت نظام کے تحت عیسائی اور یہودی برادریاں اپنے مذہبی، تعلیمی اور قانونی معاملات خود چلاتی تھیں۔ 1492 میں سلطان بایزید ثانی نے اسپین سے نکالے گئے یہودیوں کو عثمانی سلطنت میں خوش آمدید کہا۔
برصغیر
مسلم حکمرانوں نے صدیوں تک ہندو اکثریتی آبادی پر حکومت کی۔ خصوصاً مغلوں کے دور میں ہندو انتظامیہ اور فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے؛ اکبر نے جزیہ ختم کیا اور بہت سے حکمرانوں نے مندروں کو عطیات دیے۔ خواجہ معین الدین چشتی جیسے صوفیا نے ہر مذہب کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
کوتاہیاں
مسلم تاریخ عدم رواداری سے خالی نہیں تھی: امتیازی سلوک کے ادوار، بعض حکمرانوں کے تحت جبری تبدیلیٔ مذہب، اور خود مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ ظلم۔ یہ اسلامی تعلیمات سے انحراف تھے، جن کا محرک اکثر سیاست تھی، اور مؤرخین کے مطابق قرونِ وسطیٰ کے یورپ کی مذہبی جنگوں کے مقابلے میں یہ عام قاعدہ نہیں بلکہ استثنا تھے۔
آج کے لیے اسباق
پاکستان سمیت مسلم معاشروں کو اس ورثے سے فائدہ اٹھا کر اقلیتوں کے آئینی حقوق (آرٹیکل 20 اور 36) کا تحفظ کرنا چاہیے، انتہا پسندی اور ہجوم کے تشدد کا مقابلہ کرنا چاہیے اور تعلیم و مکالمے کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے، جیسا کہ قائدِ اعظم نے اپنے 11 اگست 1947 کے خطاب میں تصور پیش کیا۔
اختتامیہ
حضرت عمرؓ کے عہد نامے سے مسلم اسپین، صلاح الدین کے بیت المقدس اور عثمانی ملت نظام تک، عہدِ نبوی کے بعد کی مسلم تاریخ قرآن و سنت میں جڑی مذہبی رواداری کی شاندار مثالیں پیش کرتی ہے۔ اس روایت کا احیا دینی فریضہ بھی ہے اور آج کے پُرامن کثیر المذاہب معاشروں کی ضرورت بھی۔
قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔
Answered this question differently?
Submit your own answer — approved answers are published with your name.
Get new solved papers on WhatsApp
Follow channel
Corrections and discussion
Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.