CSS NEXUS
Urdu Answers

CSS 2025اسلامیاتQ. 6

عہدِ نبوی میں ہونے والے امن معاہدوں کے فریقین کا تعین کرتے ہوئے ان کے مندرجات پر بحث کیجیے۔

تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·

Read in English

Original CSS 2025 Islamic Studies paper

یہ CSS 2025 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 6) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔

خاکہ

  • 1۔ تعارف: اسلام اور امن
  • 2۔ میثاقِ مدینہ (1 ہجری / 622 عیسوی)
  • ✓فریقین: مہاجرین، انصار (اوس اور خزرج) اور مدینہ کے یہود
  • ✓مندرجات: ایک امت، مذہبی آزادی، مشترکہ دفاع، نبی کریم ﷺ آخری ثالث
  • 3۔ ہمسایہ قبائل سے معاہدے (2 ہجری)
  • ✓بنو ضمرہ اور بنو مدلج: عدم جارحیت اور باہمی مدد
  • 4۔ صلحِ حدیبیہ (6 ہجری / 628 عیسوی)
  • ✓فریقین: نبی کریم ﷺ اور قریش (نمائندہ سہیل بن عمرو)
  • ✓دس سالہ صلح اور دیگر شرائط؛ خزاعہ اور بنو بکر
  • ✓”کھلی فتح“
  • 5۔ اہلِ خیبر سے معاہدہ (7 ہجری)
  • 6۔ غزوۂ تبوک کے معاہدے (9 ہجری)
  • ✓ایلہ، اذرح، جرباء اور مقنا
  • 7۔ نجران کے عیسائیوں سے معاہدہ (9–10 ہجری)
  • 8۔ نبوی معاہدوں کے مشترکہ اصول
  • 9۔ آج کے لیے اسباق
  • 10۔ اختتامیہ

جواب

تعارف

اسلام کا نام ہی سلام (امن) کے مادے سے نکلا ہے، اور قرآن کی ہدایت ہے: ”اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو“ (الانفال 8:61)۔ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ایک ایسے مدبر کی تصویر پیش کرتی ہے جس نے جنگ پر معاہدوں کو ترجیح دی، نقصان اٹھا کر بھی اپنا وعدہ نبھایا، اور معاہدوں کے ذریعے کثیر المذاہب معاشرہ قائم کیا اور اپنا پیغام پھیلایا۔

میثاقِ مدینہ (1 ہجری / 622 عیسوی)

فریقین۔ ہجرت کے کچھ ہی عرصے بعد نبی کریم ﷺ نے مکہ کے مہاجرین، مدینہ کے انصار (اوس اور خزرج کے قبائل اور ان کی شاخیں) اور ان شاخوں کے حلیف یہودی گروہوں کے درمیان ایک تحریری عہد نامہ مرتب کیا، جس کے متن میں ان کا نام بنام ذکر ہے۔ اسے اکثر اولین تحریری دساتیر میں شمار کیا جاتا ہے۔

مندرجات۔ دستخط کرنے والوں نے شہر کے دفاع کے لیے ایک جماعت (امت) بنائی؛ یہودی اپنے مذہب پر اور مسلمان اپنے مذہب پر رہیں گے؛ تمام فریق حملے کی صورت میں مل کر مدینہ کا دفاع کریں گے اور جنگی اخراجات میں اپنا حصہ ادا کریں گے؛ کوئی فریق قریش سے الگ صلح نہیں کرے گا نہ انہیں پناہ دے گا؛ مظلوم کی مدد کی جائے گی اور قبیلہ کوئی بھی ہو، جرم کی سزا دی جائے گی؛ ہر شاخ کے دیت اور فدیے کے انتظامات برقرار رہے؛ یثرب کو حرم قرار دیا گیا؛ اور تنازعات اللہ اور محمد ﷺ کے سامنے پیش ہوں گے۔ میثاق نے قبائلی انارکی کی جگہ قانون کی حکمرانی اور ایک ریاست کا اختیار قائم کیا۔

ہمسایہ قبائل سے معاہدے (2 ہجری)

ابتدائی مہمات کے دوران نبی کریم ﷺ نے شام کے تجارتی راستے پر آباد قبائل سے عدم جارحیت اور باہمی مدد کے معاہدے کیے، جن میں بنو ضمرہ (مہمِ ودان/ابواء کے موقع پر) اور بنو مدلج نمایاں ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے اور ایک دوسرے کے دشمنوں کی مدد نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ ان معاہدوں نے مدینہ کے گرد و نواح کو محفوظ بنایا اور قریش کو سیاسی طور پر تنہا کیا۔

صلحِ حدیبیہ (6 ہجری / 628 عیسوی)

فریقین۔ نبی کریم ﷺ، جو تقریباً 1,400 صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے آئے تھے، اور مکہ کے قریش، جن کے نمائندے سہیل بن عمرو تھے۔ دستاویز حضرت علیؓ نے تحریر کی۔

مندرجات۔

(i) دس سال کی صلح؛ (ii) مسلمان اس سال مدینہ واپس جائیں گے اور اگلے سال عمرہ کریں گے، نیام میں تلواروں کے ساتھ تین دن قیام کریں گے؛ (iii) جو مکی اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر مدینہ جائے گا اسے واپس کیا جائے گا، لیکن جو مسلمان مکہ جائے گا اسے واپس نہیں کیا جائے گا؛ (iv) کوئی بھی قبیلہ کسی بھی فریق کا حلیف بن سکتا ہے؛ بنو خزاعہ مسلمانوں اور بنو بکر قریش کے حلیف بنے۔

شرائط بہت سے صحابہ کو ذلت آمیز لگیں، اور نبی کریم ﷺ نے دستاویز سے ”رسول اللہ“ کے الفاظ ہٹانا بھی قبول کر لیا۔ پھر بھی قرآن نے اسے ”کھلی فتح“ قرار دیا (الفتح 48:1)۔ امن کی بدولت اسلام میل جول اور تبلیغ سے پھیلا، اور اگلے دو برسوں میں پچھلے تمام برسوں سے زیادہ لوگ مسلمان ہوئے۔ جب بنو بکر نے قریش کی مدد سے خزاعہ پر حملہ کیا تو قریش نے معاہدہ توڑ دیا، جس کے نتیجے میں 8 ہجری میں تقریباً خون ریزی کے بغیر مکہ فتح ہوا۔

اہلِ خیبر سے معاہدہ (7 ہجری)

خیبر کی فتح کے بعد اس کے یہودی باشندوں نے زمین پر رہنے کی درخواست کی۔ نبی کریم ﷺ نے اتفاق کیا کہ وہ باغات کاشت کریں گے اور پیداوار کا نصف مسلمانوں کو دیں گے، اور یہ انتظام مسلمانوں کی صوابدید پر جاری رہے گا۔ یہ ریاست اور غیر مسلم برادری کے درمیان بٹائی کے معاہدے کی ابتدائی صورت تھی۔

غزوۂ تبوک کے معاہدے (9 ہجری)

غزوۂ تبوک کے دوران ایلہ (موجودہ عقبہ کے قریب) کے عیسائی حکمران یوحنا بن رؤبہ اور اذرح، جرباء اور مقنا کے لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے معاہدے کیے۔ انہوں نے مسلم اقتدار قبول کیا اور جزیہ ادا کیا؛ اس کے بدلے انہیں اپنی جان، مال، قافلوں اور کشتیوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی تحریری ضمانت ملی۔ ان معاہدوں نے جنگ کے بغیر ریاست کی سلامتی شمالی سرحد تک پھیلا دی۔

نجران کے عیسائیوں سے معاہدہ (9–10 ہجری)

یمن کے نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ آیا، نبی کریم ﷺ سے مذہبی گفتگو کی اور آخرکار معاہدہ کیا۔ انہوں نے سالانہ ادائیگی پر اتفاق کیا، جو زیادہ تر کپڑوں کی صورت میں تھی، اور اس کے بدلے انہیں اپنی جان، عقیدے، زمینوں، مال، گرجا گھروں اور مذہبی پیشواؤں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی امان کی ضمانت ملی؛ کسی اسقف یا راہب کو اس کے منصب سے نہیں ہٹایا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یہ دستاویز غیر مسلم شہریوں کی مذہبی آزادی کا سنگِ میل ہے۔

مشترکہ اصول

نبوی معاہدوں کی واضح خصوصیات مشترک ہیں: تحریری دستاویزات؛ فریقین کی واضح نشاندہی؛ جان، مال اور مذہب کا تحفظ؛ شرائط کی پوری پابندی، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو جندلؓ کو مکہ واپس کر دیا کیونکہ معاہدہ ابھی طے ہوا تھا؛ اصل مقصد کی خاطر ظاہری صورت میں لچک؛ اور ایسے امن کو ترجیح جو طویل مدتی مشن کے کام آئے۔ قرآن کا حکم ہے: ”عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی“ (الاسراء 17:34)۔

آج کے لیے اسباق

مسلم ریاستیں بین الاقوامی قانون، اقلیتوں کے حقوق اور سفارت کاری میں اس ورثے سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں: معاہدوں کی پابندی، میثاقِ مدینہ اور معاہدۂ نجران کی طرح اقلیتوں کا تحفظ، اور تنازعات کا مذاکرات سے حل۔ پاکستان کا آئین، جو اقلیتوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے (آرٹیکل 20 اور 36)، اسی روایت کا عکاس ہے۔

اختتامیہ

میثاقِ مدینہ سے حدیبیہ، تبوک اور نجران کے معاہدوں تک، نبی کریم ﷺ نے معاہدوں کے ذریعے قانون قائم کیا، امن کو یقینی بنایا اور ہر مذہب کے لوگوں کی حفاظت کی۔ یہ معاہدے ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام میں امن کمزوری نہیں بلکہ اصول پر مبنی حکمتِ عملی ہے، اور یہ کہ مسلمان کا نبھایا ہوا وعدہ خود دعوت کی ایک صورت ہے۔

قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔

Corrections and discussion

Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.

Add your comment, correction or suggestion

Everything is checked by our team before it appears. Please keep it respectful and on topic.

Your rating (optional)

Answered this question differently?

Submit your own answer — approved answers are published with your name.

Submit your answer

Get new solved papers on WhatsApp

Follow channel

Tags

  • #Seerah
  • #Charter of Madinah
  • #Treaty of Hudaybiyyah
  • #Islamic Diplomacy
  • #Peace in Islam
  • #Interfaith Relations
  • #CSS 2025 Solved Paper
  • #CSS 2025 Islamiat
  • #CSS Islamiat Solved Papers
  • #CSS Islamic Studies Solved Papers
  • #Islamiat Past Papers
  • #CSS Compulsory Subjects
  • #FPSC CSS Past Papers
  • #CSS Islamiat in Urdu
  • #Islamiat Solved Papers in Urdu
  • #csssolvedpapers
  • #csssolvedpapers2025
  • #CSS Islamic Studies Solved Paper 2025
  • #عہدِ نبوی میں ہونے والے امن معاہدوں کے