CSS 2026اسلامیاتQ. 6
اسلامی نظام میں احتساب کا تصور واضح کیجیے۔ مثالوں سے ثابت کیجیے کہ اس حوالے سے خلفائے راشدین کے طرزِ عمل نے اعلیٰ ترین معیار قائم کیا۔
تحریر: CSS Nexus Team · اردو ترجمہ · نظرِ ثانی: Asad Khan ·
یہ CSS 2026 کے اسلامیات کے پرچے (Q. 6) کا جواب ہے، جو اصل میں انگریزی میں CSS Nexus Team نے لکھا تھا۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
خاکہ
- 1۔ تعارف
- 2۔ اسلام میں احتساب کا تصور
- ✓اللہ کے سامنے جواب دہی: یومِ حساب
- ✓اقتدار بطور امانت
- ✓ہر شخص نگران (راعی) ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے
- ✓قانون کے سامنے مساوات: کوئی قانون سے بالاتر نہیں
- 3۔ اسلامی نظام میں احتساب کے ذرائع
- ✓شوریٰ اور حکمرانوں سے سوال کرنے کا عوامی حق
- ✓آزاد عدلیہ (قضا)
- ✓حسبہ اور عمال کا معائنہ
- ✓بیت المال بطور امانت
- 4۔ خلفائے راشدین کا قائم کردہ معیار
- ✓حضرت ابو بکرؓ: ”میں غلطی کروں تو مجھے درست کرو“
- ✓حضرت عمرؓ: برسرِ عام سوال؛ گورنروں کا محاسبہ
- ✓حضرت عثمانؓ: ناقدین کو کھلے عام جواب
- ✓حضرت علیؓ: عام فریق کی حیثیت سے قاضی کے سامنے پیشی
- 5۔ پاکستان سمیت جدید مسلم ریاستوں کے لیے اہمیت
- 6۔ اختتامیہ
جواب
تعارف
احتساب (محاسبہ) کا اصول یہ ہے کہ ہر امانت دار کو جواب دینا ہوگا کہ اس نے امانت کو کیسے استعمال کیا۔ اسلام میں یہ محض انتظامی بندوبست نہیں بلکہ ایمان کا معاملہ ہے: حکمران اور رعایا دونوں اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ خلفائے راشدین نے اس عقیدے کو اس طرح عملی شکل دی کہ ان کا دور مسلم تاریخ میں صاف ستھری اور جواب دہ حکومت کا معیار ہے۔
اسلام میں احتساب کا تصور
اللہ کے سامنے جواب دہی۔ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ کوئی چیز حساب سے باہر نہیں: ”پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا“ ”اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا“ (الزلزال 99:7 تا 8)۔ آخرت پر ایمان احتساب کو باطنی بنا دیتا ہے؛ مومن اس وقت بھی اپنا محاسبہ کرتا ہے جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔
اقتدار بطور امانت۔ ”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو“ (النساء 4:58)۔ عہدہ، اختیار اور عوامی مال امانت ہیں، ذاتی ملکیت نہیں۔
عالمگیر ذمہ داری۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حکمران نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا“ (بخاری، مسلم)۔ اختیار کے ساتھ ذمہ داری بڑھتی جاتی ہے۔
قانون کے سامنے مساوات۔ جب لوگوں نے چوری کرنے والی بنو مخزوم کی معزز خاتون کی سفارش کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پچھلی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ وہ کمزوروں کو سزا دیتی اور طاقتوروں کو چھوڑ دیتی تھیں، اور اعلان کیا: ”اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا“ (بخاری)۔
اسلامی نظام میں احتساب کے ذرائع
قرآن مومنوں کی صفت بیان کرتا ہے کہ وہ ”اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں“ (الشوریٰ 42:38)۔ مشاورت عوام کو آواز اور فیصلوں پر سوال کا حق دیتی ہے۔ آزاد عدلیہ حکمرانوں کے خلاف بھی مقدمات کا فیصلہ کرتی ہے۔ حسبہ کا ادارہ بازاروں اور عوامی طرزِ عمل کی نگرانی کرتا ہے، اور خلفا اپنے عمال کا معائنہ کرتے تھے۔ بیت المال امت کی ملکیت ہے؛ حکمران اس سے صرف معمولی وظیفہ لیتا ہے۔
خلفائے راشدین کا قائم کردہ معیار
حضرت ابو بکر صدیقؓ۔ منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں آپؓ نے فرمایا: ”مجھے تم پر حاکم بنایا گیا ہے، حالانکہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کروں تو میری مدد کرو؛ اگر غلط کروں تو مجھے درست کرو۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں، میری اطاعت کرو؛ اگر میں ان کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں۔“ آپؓ تجارت کرتے رہے یہاں تک کہ صحابہؓ نے بیت المال سے آپؓ کا معمولی وظیفہ مقرر کر دیا، اور وفات سے پہلے آپؓ نے ہدایت کی کہ جو کچھ لیا وہ بیت المال کو لوٹا دیا جائے۔
حضرت عمر فاروقؓ۔ حضرت عمرؓ نے احتساب کو ادارے کی شکل دی۔ آپؓ گورنروں کی تقرری کے وقت ان کے اثاثوں کا اندراج کرتے اور رخصتی کے وقت ان کی جانچ کرتے؛ بلا جواز دولت ضبط کر لی جاتی یا بیت المال میں شامل کر دی جاتی۔ آپؓ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو گورنروں کے معائنے اور ان کے خلاف شکایات سننے کے لیے بھیجا، اور حج کے اجتماع میں لوگوں کو اپنے عمال کی زیادتیوں کی شکایت کی دعوت دی۔ خود آپؓ سے برسرِ عام سوال کیا گیا: جب ایک شخص نے پوچھا کہ خلیفہ کا لباس اس کپڑے سے لمبا کیسے ہے جو ہر شخص کو ملا تھا، تو حضرت عمرؓ نے وضاحت کی کہ ان کے بیٹے عبداللہ نے انہیں اپنا حصہ دے دیا تھا۔ آپؓ سے منسوب یہ قول کہ اگر فرات کے کنارے کوئی جانور بھی بھوک سے مر جائے تو مجھے اس کی جواب دہی کا ڈر ہے، آپؓ کے احساسِ ذمہ داری کا خلاصہ ہے۔
حضرت عثمان غنیؓ۔ حضرت عثمانؓ نے اپنی ذاتی دولت امت پر خرچ کی، اور جب بعض گورنروں کے بارے میں شکایات پیدا ہوئیں تو آپؓ نے ناقدین کو کھلے عام جواب دیا، عوامی مباحثے کیے اور صوبوں کو خط لکھ کر شکایات طلب کیں۔ حتیٰ کہ جب باغیوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کیا تو آپؓ نے اپنی حفاظت کے لیے مدینہ میں خون بہانے کی اجازت نہ دی۔
حضرت علیؓ۔ آپؓ کے دورِ خلافت میں ایک زرہ پر تنازع ہوا جسے آپؓ اپنی قرار دیتے تھے اور جو ایک غیر مسلم کے پاس تھی۔ خلیفہ قاضی شریح کے سامنے عام فریق کی حیثیت سے پیش ہوئے۔ چونکہ آپؓ قابلِ قبول گواہ پیش نہ کر سکے اور آپؓ کے بیٹے کی گواہی قبول نہ کی گئی، اس لیے قاضی نے سربراہِ مملکت کے خلاف فیصلہ دیا۔ روایت کے مطابق وہ شخص اس انصاف سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے سچ کا اعتراف کر لیا۔
ان مثالوں سے چار خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں: حکمران خود کو آقا نہیں خادم سمجھتا تھا؛ عوامی مال کو مقدس سمجھا جاتا تھا؛ عمال کا محاسبہ ہوتا تھا؛ اور عدالتیں حکومت سے بالاتر تھیں۔
آج کے لیے اہمیت
پاکستان سمیت جدید مسلم ریاستوں میں احتساب کے ادارے موجود ہیں، جیسے عدالتیں، آڈیٹر جنرل، انسدادِ بدعنوانی کے ادارے، پارلیمان اور آزاد صحافت۔ ان کی کمزوری منتخب اطلاق اور سیاسی غلط استعمال میں ہے۔ خلفائے راشدین کا نمونہ سکھاتا ہے کہ احتساب اوپر سے شروع ہونا چاہیے، سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، اثاثوں کے بارے میں شفاف ہونا چاہیے اور انتقام کے خواہاں حریفوں کے بجائے آزاد اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔
اختتامیہ
اسلام میں احتساب کی جڑ یومِ حساب پر ایمان ہے اور اس کا اظہار مشاورت، انصاف اور محاسبے کے اداروں میں ہوتا ہے۔ خلفائے راشدین نے دکھایا کہ حکمران خادم کی طرح زندگی گزار سکتا ہے، ادنیٰ ترین شہری کو جواب دے سکتا ہے اور اپنی ہی عدالت میں مقدمہ ہار سکتا ہے۔ اسی لیے ان کا دور اسلامی تاریخ میں حکمرانی کا اعلیٰ ترین معیار اور آج کے مسلم معاشروں کے لیے زندہ سبق ہے۔
قرآنی آیات کا اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔
Answered this question differently?
Submit your own answer — approved answers are published with your name.
Get new solved papers on WhatsApp
Follow channel
Corrections and discussion
Nothing here yet. Spotted a mistake in this answer, or have a suggestion? Tell us below.